The news is by your side.

Advertisement

آرٹیکل 370 کا خاتمہ، گیارہ ماہ مکمل، 192 کشمیری شہید، 77 خواتین کی عصمت دری

سری نگر: مودی سرکاری کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیر قانونی اقدام کو گیارہ ماہ مکمل ہوگئے، بھارتی فوج نے ان گیارہ ماہ سے جنت نظیر وادی میں ظلم و بربریت کا بازار گرم رکھا ہواہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے گیارہ ماہ سے مقبوضہ وادی کو جیل بنا کر رکھا ہے اور اس دوران لاک ڈاؤن میں 192 کشمیریوں کو شہید جبکہ 132 کو زخمی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد قابض بھارتی فوج نے گیارہ ماہ میں کشمیریوں کے 935 مکانات تباہ کیے جبکہ 77 خواتین کو زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔

مودی سرکار کے حکم پر آئین کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں کشمیری نوجوان  کو جیلوں میں ڈالا گیا جبکہ کشمیر کے حریت رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کیا۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں‌ تعینات ایک اور بھارتی فوجی کی خودکشی

یاد رہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد بھارتی شہریوں اور غیر مقامیوں کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے اور انہیں مقامی پتے کے شناختی کارڈ جاری کیے جارہے ہیں۔

بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں بھارتی وزیرداخلہ نے آرٹیکل370 ختم کرنے کا بل پیش کیا، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے۔

بعد ازاں بھارتی صدر نے آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دیے اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

خیال رہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کا کوئی بھی یکطرفہ قدم کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم نہیں کرسکتا ، بھارتی حکومت کا فیصلہ کشمیریوں اور پاکستانیوں کیلئے ناقابل قبول ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق یہ علاقہ متنازع ہے، بطور فریق پاکستان اس غیرقانونی اقدام کے خلاف ہرممکن قدم اٹھائے گا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں