جمعہ, مارچ 13, 2026
اشتہار

مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے بے روزگاری میں اضافہ کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں تیز رفتار ترقی کے باعث ملازمتوں کی نوعیت اور بھرتیوں کی ترجیحات میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے جس کے سبب بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔

اوپن اے آئی کے تعاون سے انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (ICRIER) کی جانب سے کیے گئے ایک تازہ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ملازمتوں کی نوعیت اور بھرتیوں کی ترجیحات کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔

“AI and Jobs: This Time is No Different” کے عنوان سے جاری رپورٹ کے مطابق اے آئی کو ادارہ جاتی سطح پر اپنانے کے نتیجے میں کمپنیوں میں نئی مہارتوں کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت

سروے میں شامل 63 فیصد اداروں نے بتایا کہ اب ایسے افراد کی ضرورت بڑھ گئی ہے جو ڈومین نالج کے ساتھ ساتھ اے آئی یا ڈیٹا سے متعلق صلاحیتیں بھی رکھتے ہوں کیونکہ مصنوعی ذہانت براہِ راست بنیادی کاروباری عمل کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ سروے نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان کیا گیا، جس میں ملک کے 10 شہروں سے تعلق رکھنے والی 650 آئی ٹی کمپنیوں نے حصہ لیا۔

اس موقع پر جواب دہندگان نے اعتراف کیا کہ اے آئی کے نفاذ کے باعث ملازمتوں میں معمولی کمی زیادہ تر انٹری لیول پر سامنے آئی ہے، جبکہ درمیانی اور اعلیٰ سطح پر بھرتیاں جمود کا شکار ہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سب سے زیادہ طلب ان شعبوں میں بڑھی ہے جو براہِ راست اے آئی سے منسلک ہیں، مثلاً سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریشن۔

اس کے علاوہ مزید کہا گیا ہے کہ اے آئی سے متاثر ہونے والے 1900 سے زائد کاروباری ڈویژنز میں مجموعی طور پر پیداوار میں اضافہ، کمی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

سروے میں شامل نصف سے زائد کمپنیوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی آگاہی پروگرامز اور تربیتی اقدامات کے ذریعے ملازمین کو اے آئی اپنانے میں مدد دے رہی ہیں، جبکہ مزید 38 فیصد ادارے ایسی تیاری کر رہے ہیں۔

تاہم رپورٹ کے مطابق تربیت کا دائرہ ابھی محدود ہے اور بہت کم کمپنیوں نے کہا کہ ان کی نصف سے زیادہ افرادی قوت نے گزشتہ برس اے آئی سے متعلق باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں ملازمت کا حصول روایتی ڈگریوں سے زیادہ نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ مہارتوں پر منحصر ہوگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال کی ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کے ماہرین معاشیات نے خبردار کیا تھا کہ مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار ترقی کے باعث ایشیائی خطے میں کروڑوں نوکریاں خطرے میں پڑسکتی ہیں جہاں غریب ممالک تاحال بنیادی ڈیجیٹل رسائی اور تکنیکی تعلیم جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) میں ایشیا اور الکاہل خطے کے چیف اکانومسٹ فلپ شیلکنز نے کہا تھا کہ جس طرح 19ویں صدی کی صنعتی ترقی نے دنیا کو چند امیر اور بے شمار غریب ممالک میں تقسیم کر دیا تھا اسی طرح مصنوعی ذہانت کا انقلاب بھی ایسی ہی خلیج پیدا کر سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جن ممالک نے مہارتوں، کمپیوٹنگ پاور اور مؤثر طرز حکمرانی پر سرمایہ کاری کی ہے وہ فائدے میں رہیں گے اور دیگر پیچھے رہ جائیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور انسانوں کا روزگار

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں