جمود ٹوٹ چکا ہے۔ ہر شے تیز گام ساعتوں میں برق رفتاری سے بدل رہی ہے، پرانی کی جگہ نئی تخلیقات نمودار ہو رہی ہیں، ایسے میں بظاہر حقیقی ذہانت پر "مصنوعی ذہانت” بھی غالب ہوتی نظر آرہی ہے۔ بعض لوگ اس کے مصنوعی نام ہی سے خائف ہیں، کچھ اسے مستقبل کا دیو کہتے ہیں جو انسانی شعور کو نگل جائے گا، اور کچھ اسے ایسا عفریت گردانتے ہیں جو روزگار، تعلیم اور معاشرت کے تمام ستونوں کو منہدم کر کے رکھ دے گا۔ کیا واقعی مصنوعی ذہانت، اصل ذہانت کو کھا سکتی ہے؟
یہ امر ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ ذہانت وہ جوہرِ نایاب ہے جو خالقِ کائنات نے انسان کو عطا کیا۔ یہی وہ اصل قوّت ہے جس کے سبب انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ ملا۔ اسی عقلِ سلیم نے پتھر کے زمانے سے خلائی جہازوں کے عہد تک کا سفر ایسے ہی طے نہیں کر لیا۔ جس ذہن نے قلم ایجاد کیا، قلم کی روشنائی ایجاد کی، کاغذ کو علم کا امین بنایا، چھاپا خانے وجود میں لایا، کوئی اور نہیں آج وہی ذہن الگورتھم اور ڈیجیٹل نظام وضع کر رہا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جو شے انسان کی اپنی تخلیق ہو، وہ انسان کی اصل ذہانت کو کیسے مٹا سکتی ہے؟ اس نکتے کو سمجھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت درحقیقت انسانی ذہانت کی توسیع ہے، اس کا بدل نہیں۔
تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ جب جب کوئی نئی ایجاد سامنے آئی، ابتدا میں اسے خوف اور اندیشے کی عینک لگا کر دیکھا گیا۔ جب کیلکولیٹر ایجاد ہوا تو کہا گیا کہ اب ریاضی دان کا کام ختم شد، حساب کی مہارت مفقود ہو جائے گی۔ مگر کیا ایسا ہوا؟ ہرگز نہیں۔ ریاضی دانوں نے کیلکولیٹر کو ایک معاون آلہ کے طور پر اختیار کیا اور مزید پیچیدہ مسائل کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جب خط کتابت کی دنیا میں کمپیوٹر اور انپیج جیسے سافٹ ویئر داخل ہوئے تو بعض لوگوں نے یہ فریاد کی کہ خوش نویسی اور روایتی کتابت کا فن نابود ہو جائے گا۔ مگر جنہوں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھا، کمپیوٹر سیکھا، ڈیجیٹل مہارت حاصل کی، وہی کامیاب و کامران ٹھہرے؛ اور جو لکیر کے فقیر بنے رہے، زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔
مصنوعی ذہانت کا معاملہ بھی کچھ اسی قبیل کا ہے۔ یہ ایک آلہ ہے، ایک وسیلہ ہے، ایک نظام ہے جو انسانی ذہن کی راہ نمائی سے کام کرتا ہے۔ اس میں خطا کا احتمال بھی ہے، خامی کا امکان بھی، اور محدودیت کی دیواریں بھی۔ یہ مکمل شعور نہیں رکھتی، نہ ہی اس میں وہ وجدانی بصیرت ہے جو انسان کے دل و دماغ کو عطا ہوئی۔ یہ ڈیٹا سے نتائج اخذ کرتی ہے، مگر حکمت، اخلاق، رحم اور ذمہ داری جیسے اوصاف ابھی تک انسان ہی کے حصے میں آئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ مصنوعی ذہانت انسانی شعور کو مٹا دے گی، دراصل انسانی قوتِ تخلیق کو کمتر سمجھنے کے مترادف ہے جو قابلِ افسوس امر ہے۔
البتہ جو قومیں تغیر کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی ہیں، وہی تاریخ میں اپنا نام ثبت کرتی ہیں اور جو خوف کے حصار میں بیٹھ جاتی ہیں، وہ پسماندگی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج اگر بعض شعبوں میں مشینیں اور خودکار نظام انسانی محنت کی جگہ لے رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ روزگار کے دروازے بند ہو گئے، بلکہ یہ ہے کہ روزگار کی نوعیت بدل رہی ہے۔ نئے ہنر، نئی مہارتیں اور نئے امکانات جنم لے رہے ہیں۔ جو شخص مصنوعی ذہانت کو سمجھ لے، اس کے اطلاق سے واقف ہو جائے، وہی اس نئے عہد میں راہبری کا منصب پا سکتا ہے۔
ہمارے لیے، بالخصوص پاکستانی معاشرے کے لیے، یہ لمحۂ فکریہ ضرور ہے کہ ہم اس تبدیلی کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ کیا ہم اسے محض خطرہ سمجھ کر ردّ کر دیں گے، یا اسے ایک موقع جان کر اپنائیں گے؟ ہمارے نوجوان اگر مصنوعی ذہانت کے اصول، پروگرامنگ کی مبادیات، ڈیٹا کے تجزیے اور ڈیجیٹل اخلاقیات سے آشنا ہو جائیں تو یہی میدان ان کے لیے روزگار کا نیا افق ثابت ہو سکتا ہے۔ فری لانسنگ، ڈیجیٹل سروسز، آن لائن تعلیم، ایپلی کیشن ڈویلپمنٹ اور مشاورتی خدمات، یہ سب ایسے شعبے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت معاون و مددگار بن سکتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی ایک بڑی تبدیلی کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ جب جدید ٹیکنالوجی کے علم برداروں، مثلاً بل گیٹس جیسے افراد یہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں تعلیمی نظام کی ہیئت بدل جائے گی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ استاد کا وجود مٹ جائے گا، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ استاد کا کردار تبدیل ہوگا۔ روایتی طرزِ تدریس کی جگہ راہ نمائی، تربیت اور تنقیدی فکر کو پروان چڑھانے کا عمل اہمیت اختیار کرے گا۔ اگر ریاضی پڑھانے والا معلّم مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے واقف ہو جائے، اردو کا استاد ڈیجیٹل تحریر اور مواد کی تخلیق سکھانے لگے، اسلامیات کا مدرس اخلاقی راہ نمائی کے ساتھ ٹیکنالوجی کے درست استعمال کا شعور دے، تو تعلیم کا چراغ مزید روشن ہو سکتا ہے۔ استاد کا منصب ختم نہیں ہوگا، بلکہ اس کی ذمہ داری اور بھی گہری ہو جائے گی۔
اسی طرح طبیب اور ٹیکنیشن بھی اس انقلاب سے مستثنیٰ نہیں۔ مصنوعی ذہانت تشخیص میں مدد دے سکتی ہے، اعداد و شمار کا تجزیہ کر سکتی ہے، مگر مریض کے دل کا حال سمجھنا، اس کے درد کو محسوس کرنا، اور اخلاقی فیصلے کرنا اب بھی انسان ہی کا کام ہے۔ ڈاکٹر اگر ان نظاموں کو معاون کے طور پر اختیار کرے تو اس کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ ایسے ہی صنعت کار اگر خود کار نظاموں کو اپنائے تو پیداوار میں اضافہ ممکن ہے، مگر منصوبہ بندی اور قیادت کی ذمہ داری انسان کے کاندھوں پر ہی رہے گی۔
حقیقی ذہانت دراصل پیش بینی کا نام ہے، آنے والے خطرے کو بھانپ لینا، ممکنہ چیلنجز کے لیے تیاری کرنا، اور حالات کے بدلتے دھارے کے ساتھ اپنی سمت درست کر لینا۔ جو شخص یا قوم مستقبل کے آثار کو دیکھ کر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دے، وہی دانش مند کہلاتی ہے۔ ہمیں آج ہی سے سوچنا ہوگا کہ اگلے دس یا بیس برسوں میں کون سے شعبے ابھریں گے، کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی، اور ہماری نوجوان نسل کو کن علوم سے آراستہ ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے ابھی سے تحقیق، جدت اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر توجہ دی، تو ہماری ذہانت سے بنی ہوئی مصنوعی ذہانت ہمارے لیے کبھی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کامل نہیں۔ اس میں خطا کا امکان ہے، تعصب کا خطرہ ہے، غلط معلومات کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اسے آنکھیں بند کر کے قبول کرنا بھی عقل مندی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کے اخلاقی اور قانونی پہلوؤں پر بھی غور کریں، ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اور انسانی اقدار کو مقدم رکھیں۔ مشین کو سر پر نہ چڑھائیں، اِسے اپنا خادم سمجھ کر اِس سے خوب کام لیں۔
اُمید ہے راقم الحروف کی اِس ادنیٰ کاوش سے قارئین کو یہ سمجھنا آسان ہو رہا ہو گا کہ یہ کہنا کہ مصنوعی ذہانت اصل انسانی ذہانت کو کھا جائے گی، ایک جذباتی ردِ عمل تو ہو سکتا ہے، مگر حقیقت نہیں۔ یہاں ایک اور اہم پہلو جسے نظرانداز کرنا کم عقلی کے سوا کچھ نہیں کہ جو شخص یا قوم اس برق رفتاری کے ساتھ قدم ملا لے وہی باقی رہتی ہے۔ مگر وقت کے ساتھ چلنا ہی کافی نہیں، ہوا کے رخ کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔ ماضی قریب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایک عہد تھا جب بی کام اور کامرس کو کامیابی کی کنجی سمجھا گیا؛ نوّے کی دہائی میں تجارت و حساب کے میدان کو مستقبل کا یقینی زینہ قرار دیا گیا، چنانچہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اسی سمت چل نکلی۔ چند برس گزرے تو منڈی اشباع ہو گئی، ڈگریاں ہاتھوں میں رہ گئیں اور مواقع محدود ہو گئے۔ پھر صحافت اور جرنلزم کا دور آیا، میڈیا کی چمک دمک نے ایسا سحر پیدا کیا کہ ہزاروں طلبہ اس شعبے میں داخل ہو گئے۔ لاہور جیسے شہر سے ہزارہا نوجوان ہر سال صحافت کی اسناد لے کر نکلنے لگے، مگر جب میڈیا کی منڈی سنبھلی اور مواقع محدود ہوئے تو وہی نوجوان دوسری نوکریوں کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دیے۔ سبب یہی تھا کہ انہوں نے وقتی رجحان کو مستقل حقیقت سمجھ لیا، آنے والے حالات کی کروٹ کو نہ بھانپا۔ آج اگر مصنوعی ذہانت کا چرچا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آنکھیں بند کر کے سب اسی دھارے میں بہہ نکلیں۔ دانش مندی یہ ہے کہ ہم دیکھیں آیا آئندہ پانچ یا دس برس تک یہی شعبہ غالب رہے گا یا اس کے ساتھ ساتھ اور بھی شعبے ابھریں گے، مثلاً انسانی تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی صنعتیں، اخلاقی و قانونی نگرانی کے نظام، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی، روبوٹکس، بایو ٹیکنالوجی، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور وہ علوم جو انسان اور مشین کے باہمی توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ ممکن ہے مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ "ہیومن انٹیلیجنس” کی قدر اور بڑھ جائے۔ تنقیدی فکر، تخلیقی بصیرت اور اخلاقی قیادت کی طلب میں اضافہ ہو۔ پس ہمیں کسی ایک لہر کا اسیر بننے کے بجائے وسعتِ نظر کے ساتھ متوازی میدانوں پر نگاہ رکھنی چاہیے، تاکہ اگر ایک دروازہ تنگ ہو تو دوسرا کشادہ ملے۔


