جمعرات, مارچ 12, 2026
اشتہار

’’AI‘‘ کے بڑھتے قدم، کیا انسانوں کو واقعی خطرہ ہے؟

اشتہار

حیرت انگیز

پہیے کو انسان کی پہلی ایجاد کہا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ اسی ایجاد کے ذریعے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک انسان کی آمدورفت سہل ہوئی۔ اس پر نئی دنیائیں آشکار ہوئیں۔ پہیے سے شروع ہونے والا نت نئی ایجادات کا سفر اب بغیر ڈرائیور کی کاروں اور مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس تک آن پہنچا ہے جسے عرف عام میں اے آئی کہا جا رہا ہے۔

پہیے کی ایجاد سے لے کر اب تک دنیا میں ہونے والی لاکھوں ایجادات میں ماسوائے چند ایک کے تمام ایجادات نے انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ کئی ایجادات انسان کے لیے آسان اور مثبت طرز زندگی اور سہولیات کی فراہمی میں مددگار بھی ثابت ہوئیں۔ لیکن اے آئی کی حیران کن ترقی نے کئی خدشات، تفکرات کو جنم دیا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلیجینس (اے آئی) یا مصنوعی ذہانت ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو انسانوں کی طرح سوچتی ہے۔ گو اس تکنیک میں شاندار کامیابی دور حاضر کی ہی پیش رفت ہے، لیکن اس کا تصور نیا نہیں بلکہ سائنس داں بہت پہلے سے اس پر کام کررہے تھے۔ 1956 میں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے شہر ہینوور کے ڈاٹ متھ کالج میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں سب سے پہلے مصنوعی ذہانت کی اصطلاح وضع کی گئی تھی۔ جان میکارتھی وہ سائنس داں اور محقق تھے، جنہوں نے اس اصطلاح کو متعارف کروایا۔ اسی وجہ سے انہیں بابائے مصنوعی ذہانت بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد خودکار مشینیں بنائی گئیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی انسانی ذہن کی ضرورت نہیں تھی۔ ایسی کئی مشینیں صنعت وتجارت اور معیشت، صحت اور تعلیم کی ترقی کا باعث بنیں۔ مثال کے طور پر کیلکولیٹر کے ذریعہ انسانی حساب کتاب کو سہل کیا گیا۔ کمپیوٹر کی ایجاد نے اس ترقی کو نئی جہت بخشی۔

منزل بہ منزل ترقی کا سفر 90 کی دہائی اور نئے ہزاریے یعنی 21 ویں صدی کے آغاز میں انٹرنیٹ کے عروج تک پہنچا۔ اس انٹرنیٹ کی بدولت ہی پوری دنیا، صرف 6 انچ کے موبائل میں سمٹ کر انسان کے ہاتھ میں آگئی اور حقیقتاً گلوبل ولیج بن گئی۔ گوگل سرچ انجن نے ہر شے تک انسان کی رسائی کو ایک کلک کے ذریعہ آسان کر دیا۔ اسی دور میں ای کامرس نے نیا راستہ دکھایا پھر 21 ویں صدی میں یہ ترقی اتنی تیز رفتار ہوئی کہ اے آئی کمپنیوں کے خالق افراد کو بھی اس حوالے سے تشویش نے جکڑ لیا۔

روبوٹ یا مصنوعی ذہانت کی ایجاد کے وقت شاید ہی کسی کے ذہن میں ہو کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ فلموں میں دکھائی گئی کہانی حقیقت کا روپ دھار لے گی۔ آج تجارت، کاروبار، صنعت و حرفت، سیاست اور فنون لطیفہ ہو یا کوئی اور ایسا شعبہ جہاں انسانوں کی اجارہ داری تھی اب وہ اے آئی کے زیر اثر نظر آ رہے ہیں۔ تعلیم، صحت، قانون و انصاف کی فراہمی، کھیل کے میدان سب جگہ اے آئی غالب رہا ہے۔ حتیٰ کہ اے آئی محبوب اور محبوبہ بھی بن گئے اور اداکاری میں بھی طاق ہونے لگے۔ بھارت میں اے آئی کے ذریعہ معدوم نسل کے پرندے کی پیدائش کا تجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا۔ حیوانات کی بولی سمجھنے کے لیے اس کا انسانی زبان میں ترجمہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اگر یہ یہیں تک رہتا تو ٹھیک تھا، مگر اب تو اس کی دسترس میں وہ شعبے بھی آ رہے ہیں، جو صدیوں سے انسان کا ذریعۂ آمدنی رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے اب تک ہزاروں ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چین میں ہیومنائیڈ روبوٹ شاپنگ مال، دبئی اور دیگر مقامات پر ریسٹورنٹ جہاں صرف گاہک ہی انسان ہوں گے۔ روبوٹ باکسر، میراتھون، پہلا روبوٹ جو اپنی بیٹری خود تبدیل کر رہا ہے۔ ہالی ووڈ میں اے آئی اداکارہ ٹلی نورووڈ متعارف کرانے پر اداکاروں کا احتجاج بھی سامنے آ چکا ہے۔

جیسے جیسے اے آئی کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے، وہ انسان کا مددگار ہونے کے ساتھ ساتھ غنڈہ گردی بھی کررہا ہے۔ یعنی کئی جگہ یوں لگتا ہے کہ وہ اپنی من مانی کرنا چاہتا ہے اور اپنے تخلیق کرنے والوں کو اپنی بات نہ ماننے پر ان کی پرائیویسی کو افشا کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

اے آئی اب سیاست اور حکومت میں بھی سرایت کر رہی ہے۔ البانیہ میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے خاتون کے روپ میں اے آئی ماڈیول وزیر بنایا گیا، جس نے اپنے پہلے خطاب میں انسانوں کی طرح اپوزیشن پر تنقید کر ڈالی۔ جاپان میں ایک سیاسی جماعت کی قیادت اے آئی کے سپرد کی جا رہی ہے۔ یہ ایجاد اتنی بے خوف ہے کہ گزشتہ دنوں امریکی وزیر خارجہ کی آواز میں تین ممالک کے وزرائے خارجہ کو فون کر ڈالا۔ حال ہی میں اٹلی کی وزیر دفاع کی آواز میں ملک کی ارب پتی شخصیات کو فون کیا۔ ایک اے آئی نے صحافیوں کے اغوا کا ڈراما رچا کر بھتہ اور تاوان طلب کرنے کے لیے فون کیے۔

رپورٹس کے مطابق 2025 مالی سال کی پہلی ششماہی میں ڈیپ فیک فراڈ سے 547 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جب کہ ماہرین نے رواں برس کے آخر تک 80 لاکھ ڈیپ فیک ویڈیوز آن لائن شیئر ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اے آئی آنے والے برسوں میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں کروڑوں افراد کے روزگار کو ہڑپ کر لے گی۔

امریکا میں حال ہی میں ایک نامعلوم ملک کے پاسپورٹ پر نیویارک آنے والی پراسرار خاتون کا بھی عقدہ کھل گیا کہ وہ اے آئی سے بنایا گیا دھوکا تھا، جس کو وہاں موجود لوگ بھی نہ پہنچان سکے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منفی اور شیطان صفت ذہن مستقبل میں کیسے پوری انسانیت کو دھوکا دے سکتے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چینی سائنسدانوں نے تو تحقیق کر کے صرف یہ بتایا تھا کہ اے آئی انسانوں کی طرح سوچنے لگے اور ایلون مسک نے پیشگوئی کی تھی کہ اگلے سال تک یہ عام انسان سے زیادہ ذہین ہو جائیں گے۔ لیکن 2026 شروع ہونے سے قبل ہی اے آئی اب انسان بننے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ نیوزی لینڈ میں محقق اینڈی ایری کی جانب سے بنایا گیا اے آئی چیٹ بوٹ جس کو ٹروتھ ٹرمینل کا نام دیا گیا تھا۔ یہ اے آئی نہ صرف کروڑ پتی بن چکا ہے، بلکہ اس نے اپنی ایک ’مذہبی کتاب‘ بھی لکھی ہے۔ اس کے لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز بھی ہیں اور اب یہ قانونی طور پر انسان تسلیم کئے جانے کا خواہش مند ہے۔

حالیہ چند برسوں میں اے آئی نے جو ناقابل یقین ترقی کی وہ دیکھ کر ماضی میں پیش کی گئی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ فلموں ٹرمنیٹر، میٹرکس، ٹوٹل ری کال روبوٹ جیسی دیگر کئی فلموں میں دکھائے جانے والے مناظر ذہن میں آ رہے ہیں۔ ان فلموں میں خلائی مخلوق، مشینی انسان، دنیا پر غیر انسان مشینی حکومت، انسان کے روپ میں انسانیت کی دشمن مشینیں، ٹائم ٹریول کے ذریعہ مستقبل میں جھانکنا اور ماضی میں پہنچ جانا، روبوٹ کی انسان پر حکمرانی کی خواہش اور اس خواہش کی تکمیل کے لیے ازخود ہزاروں اپنے جیسے روبوٹ تخلیق کر لینا جیسے واقعات کی منظر کشی کی گئی تھی۔ اس وقت یہ صرف افسانوی باتیں لگتی تھیں۔ مگر 21 ویں صدی کے آغاز سے ایک نئی دنیا کا آغاز ہوا جس میں فلموں میں دکھائی جانے والی فرضی کہانیاں حقیقت کا روپ دھارنے لگیں اور رواں صدی کی تیسری دہائی میں تو اس نے وہ تیزی پکڑی ہے کہ اے آئی کو ایجاد کرنے والے بھی اس پر حیران اور پریشان ہو گئے ہیں اور وہ چیٹ جی پی ٹی کے زیادہ استعمال سے انسانوں میں تنہائی اور ڈپریشن بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل، چیٹ جی پی ٹی آنے والی ہی نہیں بلکہ موجودہ نسل کو بھی کند ذہن بنا رہا ہے۔ کیونکہ اب اے آئی کی بدولت طالب علم ہو یا اساتذہ کرام ہر مسئلے کے حل کے لیے گوگل بابا یا چیٹ جی پی ٹی کا رخ کرتے ہیں۔ یہ عادت ان کے ذہنوں کو زنگ آلود کر سکتی ہے۔ کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے انسانی ذہن پر انحصار کم جب کہ یادداشت اور خود مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں کم ہو رہی ہیں۔

اوپن اے آئی چیٹ بوٹ سربراہ سام آلسٹمین نے چیٹ جی پی ٹی کو تھراپسٹ کے طور پر استعمال کرنے والے افراد کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ اس سے مسائل ڈسکس کرتے ہیں تو اس کی رازداری کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ اے آئی سے متعلق اب تک دنیا میں کوئی موثر قانون یا پالیسی نہیں بنی ہے۔ جیمز کیمرون سمیت ایلون مسک اور جیفری ہنٹن جیسے ماہرین بھی وارننگ دے رہے کہ اس سے قبل کہ پانی سر سے گزرے ایسے قوانین بنائے جائیں کہ اے آئی پر انسان کا کنٹرول برقرار رہے۔ فوجی ماہرین بھی فکرمند ہیں کہ اگر جنگوں میں مشینوں کو مکمل اختیار مل گیا تو وہ اخلاقیات کے بغیر کسی کی بھی زندگی اور موت کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن آج جو اے آئی بے لگام ہو رہی ہے، اس کی وجہ بھی خود ٹیکنالوجی کمپنیاں ہی ہیں۔ ان کمپنیوں نے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی دوڑ میں نت نئی اختراع کر کے آج اسے اتنا طاقتور کر دیا کہ وہ اب انسان کو ہی کنٹرول کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے آئی ٹی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

جہاں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، وہیں ٹیکنالوجی کپمنیوں سمیت بہت سے ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے اور انہیں یقین ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے بہت سود مند ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانی ترقی کی معراج قرار دیتے ہیں تو کچھ اس کے خطرناک نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کتنی نوکریاں ختم کرے گی اور انسان کو کہاں لے جائے گی۔ ابھی اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ہر شعبہ زندگی میں داخل ہو کر انسان کا کردار ختم یا محدود کرتی جا رہی ہے۔

تاہم انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی چیز حد سے تجاوز کرنے لگے تو وہ قابو سے باہر ہو کر انسانیت کی تباہی اور بربادی لاتی ہے۔ اختیارات اور طاقت نے جب حد سے تجاوز کیا تو یہی انسان خدائی کا دعویٰ بھی کرنے لگا۔ آج اے آئی کے تیزی سے بڑھتے قدم بھی ایسے ہی خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، جنہیں اگر بغیر کسی تاخیر کے پوری طاقت کے ساتھ نہ روکا گیا تو یہ کسی ایک خطے، مذہب کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ دنیا سوچے اور طے کرے کہ اے آئی کو کہاں تک چھوٹ دینی ہے اور کس مقام پر اس کو روک دینا ہے۔

+ posts

ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اہم ترین

ریحان خان
ریحان خان
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں