The news is by your side.

Advertisement

قومی ادارہ برائے امراض قلب میں دواؤں کی مصنوعی قلت

کراچی : قومی ادارہ برائے امراض قلب میں دواؤں کی مصنوعی قلت پیدا ہوگئی، ملازمین کا انچارج پروکیورمنٹ اور سیکیورٹی انچارج کیخلاف احتجاج کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب میں گزشتہ کئی روز سے دواؤں کی مصنوعی قلت تھی جس کے باعث مریضوں کو باہر سے ادوایات خریدنا پڑرہی تھی تاہم ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے 20 نومبر کو واقعے پر یوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے باہر سے ادویات منگوانے پر پابندی لگادی تھی۔

دواؤں کی مصنوعی قلت پر پروکیورمنٹ انچارج خرم حسن سے جواب طلب کیا گیا تو ہو آپے سے باہر ہوگیا اور ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر حمید اللہ ملک سے بدتمیزی کرنے لگا۔

ایڈمنسٹریٹر سے بدتمیزی کے واقعے کے بعد ادارہ امراض قلب کے ملازمین میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے، جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملازمین نے انچارج پروکیورمنٹ اور سیکیورٹی انچارج کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

ایگزیکٹیوڈائریکٹر کے نوٹیفکیشن جاری کرنے باوجود پروکیورمنٹ انچارج نے ماتحتوں کو بات نہ ماننے کی ہدایت کی تھی، دوسری جانب سیکیورٹی انچارج نے حمید اللہ اور حیدر اعوان کے خلاف درخواست دے دی تاہم ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر حمید اللہ نے سیکیورٹی انچارج کے الزام کی تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مالی بحران شدت اختیار کرگیا تھا، اسپتال میں ادویات اور طبی آلات نایاب ہو گئے تھے۔

فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز میں انتظامی امور بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔

قومی ادارہ برائے امراض قلب میں مالی بحران شدت اختیار کر گیا

ٹھیکے داروں نے عدم ادائیگی پر ادویات فراہمی سے معذرت کر لی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم قمر نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا۔

ڈاکٹر ندیم نے خط میں لکھا کہ کراچی کے مرکزی اسپتال سمیت 8 سیٹلائٹ سینٹرز پر ادویات موجود نہیں ہیں، فنڈز نہ دیے جانے کی صورت میں مریضوں کو مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں