The news is by your side.

Advertisement

آرٹسٹوں کا ٹافی کے ریپرز سے یوکرائنی صدر کی تصویر بنا کر انوکھا احتجاج

کیو : یوکرائنی آرٹسٹوں نے صدارتی انتخابات سے قبل 20 کلوگرام ٹافیوں کے ریپرز سے صدر پیٹرو پوروشینکو کا عکس بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں عام انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے حامی و ناقدین کی جانب کوئی منفرد کام ضرور کیا جاتا ہے کہ ایسا ہی کچھ یوکرائن کے موجودہ صدر پیٹرو پوروشینکو کی ناقد دو خواتین فنکاروں نے کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین آرٹسٹوں نے گولیوں کے خالی خول اور ٹافیوں کو خالی ریپرز کا استعمال کرتے ہوئے یوکرائنی صدر کا پووٹریٹ تیار کیا ہے جس کا عنوان ’بد عنوانی کا چہرہ‘ رکھا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فنکاروں نے پورٹریٹ کی تیاری کےلیے پیٹرو کی کمپنی کی تیار کردہ ٹافیوں کے ریپرز استعمال کیے ہیں۔

صدارتی پورٹریٹ کو تیار کرنے والے آرٹسٹ داریا مارچینکو اور ڈینیل گرین ہیں جنہوں نے کڑی محنت سے بد عنوانی کا چہرہ کے عنوان سے یہ پورٹریٹ تیار کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے داریا مارچینکو کا کہنا تھا کہ اس عکس میں مختلف معانی پوشیدہ ہیں، جیسے یوکرائن کے شہری جو ملک میں جمہوریت کی خواہش رکھتے تھے انہیں کسی بچے مانند ٹافیوں کے ریپرز بہلایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خالی ریپرز صدر کے کھوکھلے وعدوں کی طرح ہیں جو انہوں نے صدارتی مہم کے دوران کیے تھے اور اب ان کے مستعفی ہونے کا وقت آگیا لیکن وہ وعدے ابھی تک وفا نہیں ہوئے۔

داریا مارچینکو کا کہنا تھا کہ تصویر کے بیک گراؤنڈ میں گولیوں کے خالی خول استعمال کیے گئے ہیں جو مشرقی علاقے کی عکاسی کررہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دونوں فنکاروں نے ان خولز کو ایسے آپس میں جوڑا ہے جیسے چاکلیٹ کے بارز ہوں جس کا مقصد صدر پیٹرو کے چاکلیٹ کے کاروبار کو دکھانا ہے اور اگر ان بارز کو قریب سے دیکھیں تو یہ تابوت معلوم ہوتے ہیں جو بے گناہ ہلاک ہونے والے یوکرائنی شہریوں کی موت سے عبارت ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں