site
stats
اے آر وائی خصوصی

اے آروائی کے ناظرین آپ کا شکریہ

ary digital

اے آروائی آپ کی معلومات اورتفریح و طبع میں اضافے کے لیے ہمہ وقت آپ کے ساتھ ساتھ ہے۔ ہمارے نت نئے ڈرامے آپ کے دلوں میں جگہ بنارہے ہیں تو معلومات ودیگر دلچسپیوں سے بھرپور مارننگ شوز کے ذریعے صبح کا بہت خوب صورت استقبال برابر ہورہا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ اہلِ پاکستان کا سویرا، باخبر بھی ہو اور بہت خوب بھی، اس کے بعد جیسے جیسے گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھتی ہیں، اسی مناسبت سے ہم وقت کے ترجمان بن جاتے ہیں اور آپ کی زندگیوں میں خوشیاں بھرنے کی اپنی سی کوشش کرتے ہیں۔

ہمارے ہنستے مسکراتے کردار ”بلبلے“ کے ذریعے آپ کو محظوظ کرتے ہیں تو زندگی کی حقیقتیں دکھانے والے ڈرامے اس کے بعد پیش ہوتے ہیں۔ یہ آپ کی محبت اور اپنائیت ہے کہ اس طاقت کے ذریعے ہم اپنے ٹارگٹس با آسانی حاصل کررہے ہیں۔ اے آروائی نیٹ ورک کے سبھی چینلز وعدے کے مطابق مصروفِ عمل ہیں اور توقع پر سو فیصد کھرے اتریں گے کہ ہم محبت پانے کے بعد یوں پیار کو لوٹانا جانتے ہیں۔

آئیے قارئین۔۔۔ اب چلتے ہیں پروگراموں کی طرف۔۔۔ اس دفعہ ناظرین اے آروائی ڈیجیٹل لایا ہے آپ کے لئے سوپ اور سیریل۔۔۔ جس نے ناظرین کے دلوں کو جیت لیا ہے۔

سوپ ”جتن“ کی کہانی مہر نامی لڑکی کے گرد گھومتی ہے جو ایک جذباتی اور فرسٹریٹڈ باغی سی لڑکی ہے، جس کا خاندان غیر تعلیم یافتہ مگر خوشحال خاندان ہے، جہاں تعلیم کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ ان کا سارا سسٹم برادری ازم پر مبنی ہے، یہ خاندان تمام جاہلانہ رسم و رواج پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے اور عورت کو پیر کی جوتی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

مہر کی ماں ایک ان پڑھ اور سہمی ہوئی عورت ہے جو خود پر ہونے والے ہر ظلم اور زیادتی کو نصیب کا لکھا سمجھتی ہے، مہر نے جب سے ہوش سنبھالا، اس نے اپنی ماں صالحہ کو اپنی دادی زیتون اور والد الیاس کی ٹھوکروں میں دیکھا ہے کیونکہ اس گھر میں ہر حکم دادی کا چلتا ہے جبکہ مہر کا والد الیاس سنار کے پیشے سے وابستہ ہے اور اپنی عیاشیوں کے باعث گھر، بیوی، صالحہ اور بیٹی مہر کے فرض سے بالکل غافل ہے۔ مہر کو بظاہر دنیا کی ہر نعمت ملتی ہے مگر اپنے گھر کے ماحول سے سخت بیزار ہے، اس لئے وہ برادری میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ اس کی خواہش ہے کہ جس شخص سے اس کی شادی ہو وہ امیر ترین نہ ہو مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو جو اسے زر خرید غلام نہ سمجھے۔ فراز، مہر کی پھوپی کا بیٹا ہے، اسے بھی مہر کی دادی زیتون نے پالا ہے، لاڈ اور پیار نے فراز کو بدتمیز، خود سر اور خود غرض بنادیا ہے۔

ادھر مہر شہیر سے محبت کرتی ہے، وہ پڑھے لکھے اور مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، شہیر چاہتا ہے کہ وہ اپنی فیملی کو مہر کے گھر بھیجے مگر مہر ٹال مٹول سے کام کرتی ہے جبکہ مہر کے والد نے مہر کی ہم عمر لڑکی سے شادی کرلی ہے، اس کی ماں اس صدمے کو برداشت نہیں کرسکی۔ مہر کی دادی زیتون اور اس کے والد الیاس مہر کی شادی فرخ نامی لڑکے سے کرنا چاہتے ہیں، اب مہر کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ ماں، مہر کے والد کی دوسری شادی کی وجہ سے موت کے کنارے پر ہے۔ شہیر، مہر کا رشتہ بھیجنا چاہتا ہے، باپ فرخ سے مہر کی شادی کرنا چاہتا ہے، مہر کی شادی فرخ سے ہوتی ہے یا شہیر سے۔۔۔ ماں، مہر کے والد کی شادی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارنے پر تُلی ہے۔ مہر کے والد کی دوسری بیوی مہر کی دادی کی آنکھوں کا تارا بنی ہوئی ہے۔

اب حالات مہر کے لئے کیا رخ اختیار کرتے ہیں، یہ تو سوپ ”جتن“ دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا، اس سوپ کو تحریر کیا ہے نصرت شمشاد نے، ہدایت ارشیلا حسین کی ہیں۔ سوپ کے فنکاروں میں ساجد شاہ، ردا، عمران، ثمن عابد، فرح ندیم، بابر خان، نہیا، فراز، فاطمہ، ذیشان اور سینئر اداکارہ و ہدایتکارہ سنگیتا قابلِ ذکر ہیں۔ سوپ ”جتن“ پیر سے جمعے تک روزانہ رات 10:30 بجے اے آروائی ڈیجیٹل سے دکھایا جارہا ہے۔

دوسرا خوب صورت سوپ ”ببلی کیا چاہتی ہے“ کو تحریر کیا ہے سبین جنید اور حمیرا صفدر نے جبکہ ہدایت زاہد محمود کی ہیں۔ یہ کہانی ہے ہنستی مسکراتی خوب صورت سی ببلی کی جو کراچی کے ایک گنجان آباد علاقے کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہتی ہے۔ ببلی بے شک ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہے مگر اس کی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب سجے ہیں، وہ آگے پڑھنا چاہتی ہے اپنی محنت اور ذہانت سے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو کر اپنی قسمت بدلنا چاہتی ہے۔

ببلی کی ماں جمیلہ ایک نیک عورت ہے اور پیشے کے لحاظ سے ایک نرس ہے، لوگ دور دور سے اس کے پاس علاج کرانے آتے ہیں اور شفاءیاب ہو کر جاتے ہیں۔ اس کی ماں جمیلہ کی خواہش ہے کہ ببلی کوئی اچھا سا ہنر سیکھ لے جو اس کی زندگی میں کام آئے۔ ببلی کا باپ صابر حسین ایک کاہل، سست اور ناکارہ انسان ہے اور جگہ جگہ نوکری کرنے کے باوجود اس کی کاہلی اس کو بے روزگار کردیتی ہے۔ ببلی گھر کی غربت اور تنگی سے بیزار ہے، یہ سوچ کر وہ ایک پارلر میں بیوٹیشن کے کورس کے لئے داخلہ لے لیتی ہے، جس کی مالک فرزانہ ایک انتہائی بدتمیز اور خودسر عورت ہے، یہاں سے سوپ کی کہانی ایک نیا رخ اختیار کرلیتی ہے اور ببلی کو زندگی میں کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس کا جواب تو سوپ ”ببلی کیا چاہتی ہے“ دیکھنے کے بعد ہی ملے گا۔

اس کے فنکاروں میں سُکینا خان، شہزاد رضا، سلمٰی ظفر، زیب چوہدری، طاہر کاظمی، حسن علی، رضوان مرزا، انتیا کچھ، نومی خلجی، شازیہ امین، شہریار غزالی، سعود، فوزیہ مشتاق، زوار اور دیگر فنکار شامل ہیں۔ سوپ ”ببلی کیا چاہتی ہے“ پیر سے جمعرات تک رات 7:30 بجے اے آروائی ڈیجیٹل سے دکھایا جائے گا۔

آئیے ناظرین اب تذکرہ ہوجائے کچھ سیریل کا۔۔۔ سیریل ”قربان“ کی کہانی بہت ہی منفرد اور اعلیٰ ہے ، سیریل کی مرکزی کہانی نکاح پر نکاح سے وابستہ ہے۔ اسے تحریر کیا ہے ظفر معراج نے جبکہ ہدایت احمد بھٹی کی ہیں۔ اس کے نمایاں فنکاروں میں اقراءعزیز، بلال عباس خان، شہزاد شیخ، لیلیٰ واسطی، ریحان شیخ، عمیر رانا، شمیم ہلالی، شیماگل قابلِ ذکر ہیں۔ یہ سیریل ہر پیر کی رات دو قسطوں پر رات 8 بجے سے رات 10 بجے تک اے آروائی ڈیجیٹل سے دکھائی جائے گی۔

سیریل ”ایسی ہے تنہائی“ اے آروائی ڈیجیٹل سے ہر بدھ کی رات 8 بجے دکھائی جائے گی۔ اس کی ہدایت بدر محمود نے دی ہیں اور اسے محسن علی نے تحریر کیا ہے جبکہ فنکاروں میں سونیا حسن، صباءحمید، فاریہ خان، سیمی خان، شہریار زیدی، سیما پاشا، کامران جیلانی، سیدہ غفار، مرزا رحمان، کائنات کاظمی، نزہت، سہیل ہاشمی، رومی غزالہ، انیس عالم، شازیہ قیصر، صباءخان، حسن خالد، کلیم غوری، روزی، محبوب سلطان اور صلاح الدین صباءقابل ذکر ہیں۔

اس سیریل کی کہانی ایک ایسے گھرانے کی کہانی ہے، جہاں خدیجہ اپنے شوہر کے انتقال کے بعد پورے گھر کو سنبھالتی ہے، خدیجہ کی دو بیٹیاں ہیں، کنزیٰ اور پاکیزہ۔۔۔ پاکیزہ ایک سیدھی سادھی سی لڑکی ہے جبکہ کنزیٰ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ جاب کررہی ہے، کنزیٰ کی منگنی ہوجاتی ہے جو بعد میں ٹوٹ جاتی ہے جبکہ پاکیزہ یونیورسٹی کے ایک لڑکے حمزہ کو پسند کرتی ہے۔

ایک لڑکی رمشاءجو حمزہ اور پاکیزہ کی محبت سے ناخوش ہے کیونکہ وہ حمزہ کو پسند کرتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ کسی طرح حمزہ اور پاکیزہ کی محبت کو ناکام کرے، اس چکر میں پاکیزہ کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ سیریل ”ایسی ہے تنہائی“ ان ناخوشگوار حالات سے گزارتی ہے، اس کا جواب اے آروائی ڈیجیٹل سے آن ائر ہونے والی سیریل ”ایسی ہے تنہائی“ دیکھنے کے بعد ہی ملے گا۔

خوب صورت سوپ ”چاندنی بیگم“ یہ دو بھائی، بہن کے گھرانے کی کہانی ہے، اس کی ہیروئن خِرد ڈرامے کا مرکزی کردار ہے، پوری اسٹوری اسی کے گرد گھومتی ہے، یہ ایک سادہ اور کم عمر لڑکی ہے، حالات کے سخت تھپیڑے اسے چپ رہنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ یہ وہ لڑکی ہے جس کی زبان نہیں، اس کی شخصیت ایک روبوٹ کی طرح ہے۔ کتابیں اور باغبانی اس کا شوق ہے، یہ اپنوں سے بے تحاشا محبت کرنے والی لڑکی ہے۔ باپ اور بھائی اس کی شخصیت کا محور ہیں، یہ لڑکی رشتوں کو اپنی زندگی میں بہت اہمیت دیتی ہے اور یہی بات اسے زندگی میں بہت رلاتی ہے، اس ڈرامے کا ہیرو کیف ہے، جو ایک جنونی سا اصولوں کا پابند نوجوان ہے، ایک خوش حال گھرانے کا بیٹا ہے، جسے ہیوی بائیکس جمع کرنے کا شوق ہے اور طبیعت کا کافی ضدی انسان ہے۔ ساحر اس سوپ کا سائیڈ ہیرو ہے، یہ صرف اپنی خوشی میں خوش رہتا ہے اور بہت خود غرض قسم کا لڑکا ہے، اپنی بھابی کی باتوں کو اپنا آئیڈیل سمجھتا ہے اور ان کی باتوں پر اندھا یقین رکھتا ہے اور ان کی باتوں کو فالو کرتا ہے۔

”چاندنی بیگم“ ایک منفی کردار ہے، یہ بہت چالاک عورت ہے اور سارے گھر پر اپنا رعب رکھتی ہے، یہ بھابی بیگم کے نام سے پہچانی جاتی ہے جبکہ ساحر اس عورت کو بہت اہمیت دیتا ہے، اس کی نگاہ میں یہ بہت سمجھ دار عورت ہے، جو بہت خود غرض قسم کی عورت ہے۔ بڑے ابا شاعر قسم کے انسان ہیں، بے شمار کتابوں کے مصنف ہیں، ان کا زیادہ تر وقت گھر کی لائبریری میں گزرتا ہے، خِرد ان کی بھانجی ہے اور ان کو اس لڑکی میں اپنی مرحومہ بہن کی جھلک نظر آتی ہے۔

علینہ ساحر کی بہن ہے اور اپنے پھوپی زاد سے محبت کرتی ہے، خِرد کا بھائی شدت پسند سا اور بہت ضدی ہے۔ ساحر اور اس کی بہن علینہ دونوں ہی ڈھیٹ سفاک ہیں، عثمان خِرد کا بھائی ہے، عنایہ ”چاندنی بیگم” کی بہن ہے، بہت چالاک قسم کی لڑکی ہے، کام چور بدتمیز اور ایک نمبر کی پھوہڑ۔ ساحر اسے پسند کرتا ہے، اس کی اور ساحر کی بہت دوستی ہے، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، نسیم بیگم، ساحر اور علینہ کی والدہ ہیں۔ 55 سال کی یہ خاتون ایک روایتی بہن کا کردار ادا کرتی ہیں، ہر وقت ناخوش رہنے والی عورت ہے، چاندنی بیگم کو بالکل پسند نہیں کرتیں کیونکہ وہ ان کے بیٹے کو بہت پسند ہیں۔

انشال چاندنی بیگم کی بیٹی ہے جو بہت نک چڑھی مگر پورا گھر اس سے محبت کرتا ہے، اپنی مرضی سے من موجی زندگی گزارنے کی عادی ہے۔ اشفاق خرد اور عثمان کے والد ہیں جو باریش انسان ہیں، نمازی قسم کے آدمی ہیں، عمر60 سال کے قریب ہیں، ساری عمر واپڈا میں ملازمت کی اور اپنی اولاد کو حلال کی کمائی سے پالا اور اس پر انہیں فخر ہے کہ انہوں نے کبھی غلط ذرائع سے پیسہ نہیں کمایا، ان کی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے۔

اس سوپ کو تحریر کیا ہے مصباح نوشین نے جبکہ ہدایت شاہد نویس کی ہیں۔ اس کے فنکاروں میں ارم اختر، کنور ارسلان، سہیل اصغر، اروہا خان، کائنات چوہان، ہادی فردوس، ارجمند حسین، عمر حمید، سارہ رضوی اور جہاں آراءحئی قابل ذکر ہیں۔ سوپ ”چاندنی بیگم“ پیر سے جمعے تک رات 10 بجے اے آروائی ڈیجیٹل سے دیکھایا جارہا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top