site
stats
سندھ

اے آر وائی کی جانب سے حملے کا دفاع کرنے والے پولیس اہلکاروں کیلئے انعام

کراچی: اے آر وائی نیوز پر حملہ کرنے والے مسلح افراد کو روکنے اور اُن کے تشدد کا نشانہ بننے والے سندھ پولیس کے بہادر نوجوانوں کے اعزاز میں اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان اقبال کی ہدایت پر تقریب کا انعقاد کیا گیا اور اے آر وائی کی جانب سے چار زخمی اہل کاروں کو فی کس پچاس ہزار روپے کا چیک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  کراچی پریس کلب پر متنازع تقریر کے بعد ایم کیو ایم کے شرپسندوں کی جانب سے اے آر وائی نیوز پر حملہ کرنے والے افراد کو روکنے اور حملہ آوروں کے تشدد سے زخمی ہونے والے سندھ پولیس کے بہادر جوانوں کے اعزاز میں اے آر وائے کے صدر اور سی ای او سلمان اقبال کی ہدایت پر اے آر وائے کراچی بیورو میں تقریب منعقد کی گئی۔

اے آر وائی کے صدر اور سی ای اور سلمان اقبال نے زخمی پولیس اہلکاروں سے بات کی اور اُن کی بہادری کو سراہا جس پر پولیس افسران اور اہلکاروں نے تعاون پر اے آر وائی نیوز کا شکریہ بھی ادا کیا۔

POLICE POST 1

اس موقع پر مسلح حملہ آوروں کے تشدد سے زخمی ہونے والے افسران و اہلکاروں کو اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کی ہدایت پر آپریشن ہیڈ اے آر وائی نیوز عبدالغنی کی جانب سے ڈی ایس پی کنور آصف، انسپیکٹر پیر شبیر حیدر، کانسٹیبل راؤ ارشد اور قمر الزمان کو فی کس 50 ہزار روپے کے چیک بطور انعام دیئے گئے۔

سندھ پولیس کے بہادر جوانوں کا حوصلہ بڑھانے اور اُن کی خدمات کو سراہنے کے لیے تقریب میں بیورو چیف سندھ ایس ایم شکیل، سنیئر رپورٹر شاہ نواز شاہ، کرائم رپورٹر نذیر شاہ، ارباب چانڈیو، کامل عارف، انجم وہاب اور صلاح الدین سمیت دیگر رپورٹرز نے بھی شرکت کی۔

POLICE POST 2

قبل ازیں اے آروائی نیوز پر حملے کے دوران جرات اور عزم واستقامت کا مظاہرہ کرنے والے پولیس والوں کو آئی جی سند ھ کی جانب سے نقد انعام اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا گیا تھا۔

پڑھیں:    اے آروائی نیوز پرحملہ‘آئی جی سندھ کی جانب سے جرات مند پولیس افسران کے لیے انعامات

یاد رہے 22 اگست کو تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ایم کیو ایم کے مسلح کارکنان نے قائد ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد اے آر وائی کے دفتر پر دھاوا بول کر اسٹاف پر تشدد کرتے ہوئے دفتر میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے زیب النساء اسٹریٹ پر پولیس موبائل سمیت 3 گاڑیوں کو آگ لگا کر امن و امان کی صورتحال خراب کی تھی۔

مزید پڑھیں:       ایم کیو ایم کارکنان کا اے آر وائی نیوز کے دفتر پر حملہ

بعدا ازاں ڈی جی رینجرز سندھ اور وزیر اعلیٰ سندھ نے اے آر وائی کے دفتر کا دورہ کرتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لانے اور جلد گرفتاری کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے 37 کارکنان کو گرفتار کیا تھا تاہم سی سی ٹی وی میں مسلح افراد اور خواتین کی شناخت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کل سے آج تک متحدہ سے تعلق رکھنے والی 6 خواتین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا ہے۔

خبر پڑھیں:  اے آر وائی نیوز کے دفترپر حملہ،ایم کیو ایم کی 2خواتین گرفتار

آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اے آر وائی پر حملہ کرنے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کے الزام میں گرفتار متحدہ کے کارکنان کو جج  نے 5 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

Policemen were also targeted when ARY office… by arynews
اے آر وائی پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top