The news is by your side.

پولیس کی پھرتیاں، ارشد شریف کی والدہ کی مدعیت کے بغیر مقدمہ درج

اسلام آباد پولیس نے شہید صحافی ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر والدہ کی مدعیت کے بغیر ہی درج کرلی۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ارشد شریف کی والدہ نے کہا تھا کہ میرا بیٹا قتل ہوا ہے ایف آئی آر میں درج کراؤں گی حکومت میری مدعیت میں بیٹے کے قتل کی ایف آئی آردرج کرے۔

ان کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی اسلام آباد پولیس نے پھرتیاں دکھاتے ہوئے والدہ کی مدعیت کے بغیر ہی ایف آئی آر درج کرلی ہے۔

ایف آئی آر تھانہ رمنا کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کی گئی ہے جبکہ اس میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: میرا بیٹا قتل ہوا ہے، ایف آئی آر میں درج کراؤں گی، ارشد شریف کی والدہ کا اعلان

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج شام تک ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے قتل کی انکوائری رپورٹ طلب کی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ ارشد شریف ایک لیڈنگ جرنلسٹ تھا، ان کی میڈیکل رپورٹ بھی نہیں مل رہی تھی ، ایف آئی آر کی کاپی کل عدالت میں پیش کی جائے۔

جسٹس عطا عمر بندیال کا کہنا تھا کہ کینیا میں حکومت پاکستان کو رسائی حاصل ہے جبکہ تحقیقاتی رپورٹ تک رسائی سب کا حق ہے، صحافی قتل ہوگیا سامنے آنا چاہیے کہ کس نے قتل کیا۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں