The news is by your side.

Advertisement

حرمین واقعہ: اے آر وائی نیوز کا ریسکیو اداروں کا رسپانس ٹائم دیکھنے کے لیے تجربہ، ایک ہی ایمرجنسی نمبر کا مطالبہ

کراچی: شہر قائد میں دو دن قبل ایک ننھی بچی چار سالہ حرمین کے المناک واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی امداد اور ریسکیو اداروں کے رسپانس ٹائم کا بھی سوال اٹھ گیا ہے۔

اس سلسلے میں اے آر وائی نیوز نے ریسکیو اداروں کا رسپانس ٹائم دیکھنے کے لیے ایک خاص تجربہ کیا، جس میں امدادی اداروں کا رسپانس وقت چیک کیا گیا، اور یہ اہم نکتہ بھی سامنے آیا کہ حکومت کو ایک ہی نمبر پر مبنی ایسا ایمرجنسی سسٹم بنانا چاہیے جسے ہر کوئی آسانی سے یاد رکھ سکے، تاکہ ایمرجنسی کے وقت لوگ پریشان نہ ہوں، جیسا کہ ننھی حرمین کا بھائی (ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے) نہایت پریشانی کے عالم میں بار بار فون کرتا دیکھا گیا اور اسے کوئی امداد نہ ملی۔

کراچی میں روزانہ کئی حادثات و واقعات ہوتے ہیں جن میں شہری نہ صرف شدید زخمی ہوتے ہیں بلکہ جانیں بھی چلی جاتی ہیں، کسی بھی حادثے کے بعد شہری سب سے پہلے ریسکیو ادارے کو کال کرتا ہے، وہ ادارہ کتنی دیر میں شہری کی مدد کے لیے پہنچتا ہے، اس کے لیے اے آر وائی نیوز نے یہ تجربہ کیا۔

کراچی: ننھی حرمین کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ دل دہلا دینے والی فوٹیج سامنے آ گئی

اے آر وائی کی جانب سے یہ تجربہ سینئر کرائم رپورٹر نذیر شاہ نے کیا، اس کے لیے وہ حسن اسکوائر پر سبزی منڈی کی طرف جانے والی سڑک پر کھڑے ہوئے اور ریسکیو اداروں کو ایک فرضی ایمرجنسی کال کی۔ یہ خصوصی پیکج اس امر پر مبنی تھا کہ دیکھا جائے کہ کون سا ادارہ کیسا رسپانس دیتا ہے اور کتنی دیر میں پہنچتا ہے۔

اس سلسلے میں پہلا فون 12 بجکر 5 منٹ پر چھیپا، دوسرا فون 12 بجکر 6 منٹ پر ایدھی اور تیسرا فون 12 بجکر 7 منٹ پر ون فائیومددگار کو کیا گیا، چھیپا کی جانب سے تفصیلات پوچھی گئی جو ان کو بتا دی گئی کہ ایک بچے کو گولی لگی ہے وغیرہ۔

اس کے بعد ایدھی کو فون کیا گیا لیکن موبائل نیٹ ورک میں مسئلے کی وجہ سے کال نہیں مل سکی، اور موبائل میں ریکارڈنگ بجنے لگی کہ آپ موبائل فون ریچارج کریں۔

ایدھی کی طرف سے رابطے کی ناکامی کے بعد ون فائیو مددگار کو فون کیا گیا تو انھوں نے بھی تفصیلات حاصل کیں، اور نتیجہ یہ نکلا کہ حیرت انگیز طور پر چھیپا ایمبولینس 5 منٹ اور ون فائیو مددگار کی گاڑی 7 منٹ میں پہنچ گئی۔

اے آر وائی کی جانب سے پہلے ان کو شاباش دی گئی اور پھر ایک فرضی ایمرجنسی کال پر معذرت کی گئی، تاہم انھیں بتایا گیا کہ اس پیکج کا مقصد کیا ہے۔

خیال رہے کہ حرمین کا بھائی جب اسے کو گود میں لیے بھاگ رہا تھا اور جب وہ بار بار کسی کو فون کر رہا تھا تو اسے کوئی آسرا نظر نہیں آ رہا تھا، اس پیکج کے ذریعے سندھ سرکار سے یہ اپیل کی جا رہی ہے کہ ہر ریسکیو ادارے کے الگ الگ نمبر یاد رکھنا بہت مشکل ہے، بہت اوقات لوگ انھیں یاد نہیں رکھ پاتے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ 911 یا ریسکیو 1122 کی طرز پر ایسا سسٹم تیار کرے، جس میں کسی بھی ایمرجنسی کے لیے ایک ہی نمبر ہو، اور جو سب کو آسانی سے یاد بھی ہو سکتا ہو۔ اس نمبر کی تشہیری مہم بھی چلائی جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بروقت بچایا جا سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں