بدھ, اکتوبر 7, 2026
اشتہار

اے آر وائی پلس پاکستانیوں کا اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہے، سلمان اقبال

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : اے آر وائی نیٹ ورک کے صدر و سی ای او سلمان اقبال نے کہا ہے کہ اے آر وائی پلس پاکستانیوں کا اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان ایک مضبوط سافٹ پاور برانڈ کے طور پر ابھرے گا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آن مائی راڈار‘ میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سلمان اقبال نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی طویل عرصے سے مطالبہ کررہے تھے کہ پاکستان کا اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہونا چاہیے، اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اے آر وائی پلس کے منصوبے پر گزشتہ 3 سے 4 سال سے کام کیا جارہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں نیٹ فلیکس، زی فائیو اور دیگر بڑے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز موجود ہیں جبکہ پاکستان میں طویل عرصے تک یوٹیوب پر انحصار کیا جاتا رہا ہے۔

اب اے آر وائی پلس کے ذریعے پاکستانی ناظرین کو اپنا پلیٹ فارم میسر آگیا ہے، جسے اس قدر آسان بنایا گیا ہے کہ بزرگ افراد بھی اسے باآسانی ڈاؤن لوڈ کرکے استعمال کرسکتے ہیں۔

سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ ٹیلی وژن آج بھی ویورشپ کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم وقت کے ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہمیشہ دوسروں کو فالو کرنے کے بجائے اپنے پلیٹ فارم اور اپنے کانٹینٹ کے ذریعے دنیا کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کئی او ٹی ٹی پلیٹ فارم ایسے ہیں جو زیادہ تر کھیلوں پر انحصار کرتے ہیں، تاہم صرف اسپورٹس کافی نہیں، پاکستانی ڈرامے اور دیگر تفریحی مواد بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

اوریجنل کانٹینٹ بھی پیش کیا جائے گا

سلمان اقبال نے بتایا کہ اے آر وائی پلس پر صرف اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے ہی دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ خصوصی اوریجنل کانٹینٹ بھی پیش کیا جائے گا جو صرف اے آر وائی پلس پر دیکھا جاسکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اے آر وائی پلس بنیادی طور پر اردو ڈرامہ نیٹ ورک ہے اور دنیا بھر میں اردو سمجھنے اور بولنے والوں کی تعداد 800 ملین سے ایک ارب تک بتائی جاتی ہے، اس لیے اس پلیٹ فارم کے لیے عالمی سطح پر وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے آر وائی نیوز، اے آر وائی ڈیجیٹل سمیت اے آر وائی نیٹ ورک کے مختلف پروگرام اور مواد بھی اے آر وائی پلس پر دستیاب ہوں گے۔

عام صارف اپنا ڈرامہ اپ لوڈ کرسکے گا

سلمان اقبال نے بتایا کہ اے آر وائی پلس پر یوزر جنریٹڈ کانٹینٹ (یو جی سی) کی سہولت بھی متعارف کرائی جارہی ہے، جس کے تحت عام صارف بھی اپنا تیار کردہ ڈرامہ یا دیگر مواد پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرسکے گا۔

ان کے مطابق اے آر وائی ڈیجیٹل کی موجودہ ویورشپ کے ساتھ صارفین کے تیار کردہ ڈراموں کو بھی ناظرین تک رسائی ملے گی، جس سے نئے فنکاروں اور تخلیق کاروں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے۔

سلمان اقبال نے کہا کہ فنکاروں، ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، کیمرا مین اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی جانب سے طویل عرصے سے رائلٹی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے، اے آر وائی پلس پر متعلقہ افراد کو رائلٹی دینے کا نظام شروع کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تخلیق کار اے آر وائی پلس کے لیے ڈرامہ بناتا ہے تو جب تک وہ ڈرامہ چلتا رہے گا، اسے رائلٹی ملتی رہے گی۔

بھارتی ناظرین تک پاکستانی ڈراموں کی رسائی

سلمان اقبال نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس وقت دو محاذوں، یعنی زمین و فضا اور میڈیا پر بھرپور کامیابی حاصل کی اور ان حالات میں میڈیا کی جنگ انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25، 26 سال قبل بھارتی ٹی وی کا کلچر پاکستانی گھروں میں داخل ہوگیا تھا، تاہم اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، ان کے بقول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھارتی ناظرین پاکستانی مواد دیکھ رہے ہیں اور پاکستانی ڈراموں کے الفاظ اور انداز وہاں بھی مقبول ہورہے ہیں۔

سلمان اقبال نے کہا کہ پاکستانی ڈراموں نے بھارت میں بڑی تعداد میں ویور شپ حاصل کیے ہیں اور اب پاکستان کا اگلا ہدف فلم، تھیٹر اور سینما کے شعبوں میں بھی اپنی جگہ بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، اس لیے بدلتے ہوئے حالات کیلیے نئے اقدامات سے خوفزدہ ہونے کے بجائے آگے بڑھنا ہوگا، سلمان اقبال کے مطابق اے آر وائی پلس کا مقصد پاکستانی تفریحی مواد کو دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچانا اور پاکستان کی سافٹ پاور کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں