ہفتہ, جولائی 18, 2026
اشتہار

اسد بھوپالی:‌ وہ شاعر جس کے فلمی گیتوں نے مقبولیت کے ہفت آسمان طے کیے

اشتہار

حیرت انگیز

1998ء میں‌ فلم ’’میں نے پیار کیا‘‘ ریلیز ہوئی جس کے دو گیت جنھیں شاید ایک نسل کا رومانس کہا جانا چاہیے، اسد بھوپالی کے تحریر کردہ تھے۔ یہ گیت سرحد کے دونوں‌ پار یکساں مقبول ہوئے۔ فلم نے باکس آفس پر دھوم مچا دی۔ اسد بھوپالی نے 1949ء سے 1990ء تک لگ بھگ 400 فلمی نغمات لکھے جن میں مذکورہ فلم سے پہلے بھی کئی نغمات مقبول ہوچکے تھے۔ آج اسد بھوپالی کی برسی ہے۔ مشہور شاعر اور فلمی گیت نگار اسد بھوپالی 1990ء میں‌ آج ہی کے روز انتقال کر گئے تھے۔

فلم ’’میں نے پیار کیا‘‘ کے جن دو گیتوں نے مقبولیت کا ریکارڈ قائم کیا تھا، ان کے بول تھے، ’’دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ‘‘ اور ’’کبوتر جا جا جا…‘‘ اس فلم کے ہیرو سلمان خان اور ہیروئن بھاگیا شری تھی۔

شاعر اسد بھوپالی 10 جولائی 1921ء کو پیدا ہوئے۔ اپنے شہر کی نسبت سے اسد بھوپالی کہلائے۔ ان کا اصل نام اسد اللہ خاں تھا۔ فارسی، عربی، اردو اور انگریزی کی رسمی تعلیم حاصل کرنے والے اسد بھوپالی کو فلمی دنیا کا کام یاب نغمہ نگار تو نہیں کہا جاتا۔ مگر ان کے کئی گیت مقبول ہوئے جن میں فلم ٹاور ہاؤس کا اے میرے دل ناداں تم غم سے نہ گھبرانا، فلم دنیا کا رونا ہے تو چپکے چپکے رو، آنسو نہ بہا، آواز نہ دے بھی شامل ہیں۔ یہ اسد بھوپالی کے فلمی کیریئر کے آغاز کی بات ہے۔ بعد میں‌ فلم ”پارس منی“ کے لیے لکھے گئے گیتوں نے بھی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے جن میں ہنستا ہوا نورانی چہرہ، وہ جب یاد آئے بہت یاد آئے پھر… شامل ہیں۔

اسد بھوپالی نوجوانی میں بطور گیت نگار فلم انڈسٹری میں‌ جگہ بنانے کی غرض سے ممبئی چلے گئے تھے۔ اس وقت وہ 28 برس کے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب معروف شاعر خمار بارہ بنکوی، جاں نثار اختر، مجروحؔ سلطان پوری، شکیلؔ بدایونی، حسرتؔ جے پوری اور شیلندر کا نام اور شہرہ تھا، لیکن قسمت نے یاوری کی اور اسد بھوپالی کو کام مل گیا۔ 1949ء میں فضلی برادران فلم ’’دنیا‘‘ بنانے کے لیے کام شروع کرچکے تھے۔ اس فلم کے لیے مشہور شاعر آرزو لکھنوی نے دو گیت لکھے اور تقسیمِ ہند کا اعلان ہوا تو وہ پاکستان ہجرت کر گئے۔ فضلی برادران کا اسد بھوپالی سے رابطہ ہوا تو اس نوجوان کو فلم کے لیے نغمات لکھنے کا موقع ملا۔ پہلی فلم کے دونوں گیت سپر ہٹ ثابت ہوئے۔ یوں اسد بھوپالی کی ممبئی فلم نگری میں ابتدائی کام یابیوں کا آغاز ہوا۔ 1950ء میں فلم ’’آدھی رات‘‘ کے لیے اسد بھوپالی نے دو گیت لکھے۔ اس کے بعد بی آر چوپڑا کی مشہور فلم ’’افسانہ‘‘ کے لیے گیت لکھے اور خوش قسمتی سے یہ بھی سپر ہٹ ثابت ہوئے۔

اسد بھوپالی کو ان کے فلمی گیت ’’دل دیوانہ بن سجنا کے مانے نہ‘‘ پر "فلم فیئر ایوارڈ” دیا گیا تھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں