site
stats
پاکستان

پاناما لیکس: ذرائع آمدنی نہ بتانے پرجائیداد بے نامی ہونے کا امکان

اسلام آباد : وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز اور صاحبزادی مریم صفدر کو اپنی جائیداد بنانے کے ذرائع کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کرنا ضروری ہوگا اگر ایسا نہیں ہوا تو نیب آرڈیننس کے مطابق ان کی جائیداد بے نامی قرار دی جاسکتی ہے۔

پاناما پیپرز میں وزیر اعظم کے اہل خانہ کی جانب سے آف شور کمپنیاں بنانے کے انکشاف کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال یہ معاملہ سپریم کورٹ تک لے گئی اور اس کیس کے قانونی پہلوؤں پر قانون دانوں اور ماہرین کی رائے ہر جگہ موضوع بحث ہے۔

اسی حوالے سے معروف تجزیہ نگار اور سینیئر صحافی اسد کھرل نے اے آر وائی سے گفتگو میں کہا کہ اگر وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جائیدادیں بے نامی قرار دے دی گئیں تو اس کا براہ راست اثر وزیر اعظم پر بھی پہنچے گا اور نیب کے قوانین کی رو سے وزیراعظم سزا کے مستحق بھی بن سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی قریب میں بھی اور آج بھی وفاقی وزراء پریس کانفرنس میں کہہ رہے تھے کہ پاناما پیپرز میں وزیراعظم کا نام نہیں ہے ان جائیدادوں سے بھی وزیر اعظم کا تعلق نہیں ہے یہ وزیر اعظم کے بچوں کی جائیدادیں ہیں اور بچے وزیراعظم کے زیر کفالت نہیں۔

تجزیہ نگار اسد کھرل نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ نیب قوانین کے آرٹیکل 9 سب سیکشن 5 کے تحت کسی بھی پراپرٹی،جائیداد یا آف شور کمپنی اگر کسی پبلک آفس ہولڈر کے ساتھ منسلک ہو جائے چاہے پبلک آفس ہولڈر کے ورثاء کے نام پر ہی کیوں نہ ہو تو ورثاء کو ذرائع آمدنی بتانا ہوں گے اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو ایسی جائیداد کو بے نامی جائیداد قرار دے دیا جا سکتا ہے۔

اسد کھرل کا کہنا تھا کہ اگر کسی پبلک آفس ہولڈر کے اہل خانہ اپنی جائیدادوں کے ذرائع بتانے سے قاصر رہے اور یہ جائیداد بے نامی قرار پا گئی تو نیب آرڈینینس کی کلاز 9 سب سیکشن 5 کا اطلاق ہوجائے گا اور ایسی صورت میں پبلک آفس ہولڈر کو 21 سال تک کی کسی بھی عوامی نمائندگی سے نااہلی سمیت سزا اور جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔

ممتاز صحافی نے انکشاف کیا کہ اب تک نیب میں کلاز 9 سب سیکشن 5 کے تحت جتنے بھی کیس میں سزائیں ہوئی ہیں ان میں سے اکثریتی پبلک آفس ہولڈرز نے اپنی جائیدادیں اپنے اہل خانہ کے نام سے بنائی ہوئی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top