صوابی (09 نومبر 2025): پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن اسد قیصر نے کہا ہے کہ اگر 1973 کا آئین سبوتاژ کیا گیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری پیپلز پارٹی پر عائد ہوگی۔
سابق قومی اسمبلی اسپیکر اسد قیصر نے گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 27 آئینی ترمیم کو مسترد کر دے، آج صوابی میں انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی 1973 کے آئین اور 18 ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی ہے، لیکن اب وہ اس آئینی ترمیم میں سہولت کار بن گئی ہے۔
انھوں نے کہا آئین کو بلڈوز کیا جا رہا ہے، ایسی قانون سازی کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی، 1973 کا آئین پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا تحفہ تھا، زور و جبر سے جو قانون بنایا جا رہا ہے، کیا اس طرح آئین بنتا ہے، ایسے رویوں سے ملک نقصان کا متحمل ہو سکتا ہے۔
پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی منظوری دے دی
اسد قیصر نے کہا طاقت کا توازن یک طرفہ اور عدلیہ کو مکمل طور پر مفلوج کیا جا رہا ہے، 26 ویں آئینی ترمیم سے عدلیہ پہلے ہی کافی حد تک مفلوج ہو چکی ہے، جب ججوں کا تبادلہ بھی حکومت کرے گی تو وہ کیسے انصاف کے مطابق فیصلے کر سکیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم ملک کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے، ہم سب نے مل کر اس سازش کے خلاف آواز اٹھانی ہے، آج رات 8:30 بجے 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف علامتی احتجاج ہوگا، ظلم کے نظام کے خلاف ہم بغاوت کا اعلان کرتے ہیں، ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں جہاں جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی ہو۔


