The news is by your side.

Advertisement

یہ نہ سمجھا جائے کہ پاکستان مکمل طورپر کورونا سے محفوظ ہے، اسد عمر

اسلام آباد : وفاقی وزیراسدعمر کا کہنا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ پاکستان مکمل طورپر کورونا سے محفوظ ہے، کورونا وائرس بالکل بھی ختم نہیں ہوا، اب ہم مائیکرو لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں، جس میں ان علاقوں کے بجائے مخصوص عمارت یا جگہ پر لاک ڈاؤن ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اسدعمر نے این سی اوسی میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس بالکل بھی ختم نہیں ہوا، پاکستان میں کورونا سے  78ہزار سے زائد اموات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، اپریل میں کورونا سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بنایا گیا، وطن عزیز میں گزشتہ روز کورونا سے 15اموات ہوئیں، کہاں 78ہزار اموات کا خدشہ اور کہاں 15اموات۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمارےلیے15افرادکاموت کاشکاربننابھی افسوسناک ہے، ایک لاکھ سےمتاثرہ افراد تک مؤثرنظام کے ذریعےپہنچے، این سی اوسی کی ٹیم تمام صوبوں میں جاکرٹریننگ کرارہی ہے، ابھی یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ کوروناختم ہوگیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کووباکی کمی کےساتھ کم کرتے گئے ، بھارت نے 6ہفتے مکمل لاک ڈاؤن لگایا اس کی صورتحال سامنے ہے، اب ہم مائیکرو لاک ڈاؤن کی طرف جارہے ہیں، ان علاقوں کے بجائے مخصوص عمارت یا جگہ پر لاک ڈاؤن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بل گیٹس نے بھی کہا پاکستان نے بہت زبردست کام کیا جبکہ یواین صدر بھی کہہ رہےہیں کہ پاکستان سے سیکھاجائے، عوام کی بڑی تعداد کے تعاون کی وجہ سے مثبت نتیجہ سامنےآیا، میڈیا نے تاریخی طریقے سے عوام تک کورونا کے خلاف پیغام پہنچایا۔

اسد عمر نے کہا کہ ملک میں اسوقت20اضلاع میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے، پاکستان میں 100میں سے 3سے کم فیصدکم کیسز آرہےہیں اور بنگلادیش میں 100میں سے 23 فیصد کے قریب کیسزآرہے ہیں جبکہ ایران میں آبادی کےتناسب سے20فیصدپاکستان سےزیادہ اموات ہوئیں،اسدعمر

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نسبت دیگرممالک میں کوروناکیسز بڑھ رہے ہیں، یہ نہ سمجھا جائے کہ پاکستان مکمل طورپر محفوظ ہے ،احتیاط نہ کرنے پر کورونا کا پھیلاؤ بڑھ بھی سکتا ہے ، عوام احتیاط کریں گے تو انشااللہ پاکستان میں بہتری نظرآئیں گی۔

انھوں نے مزید کہا کورونا پھیلا تو ہماری ایکسپورٹ اور ہماری ریونیو میں 40فیصد سے زائد کمی سامنےآئی، 40فیصدمحصولات،ایکسپورٹ کم ہونےکامطلب ہے یہ لوگوں کی آمدنی ہے، غریب طبقے کیساتھ سفید پوش لوگوں کوبھی مشکلات کا سامنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں