شریفوں کیخلاف امریکی اخبار کا انکشاف آف شور اسکینڈل جیسا ہے، نیب تحقیقات کرے، اسدعمر -
The news is by your side.

Advertisement

شریفوں کیخلاف امریکی اخبار کا انکشاف آف شور اسکینڈل جیسا ہے، نیب تحقیقات کرے، اسدعمر

آئی ایم ایف کی وہ شرط بھی نہیں مانیں گے جس کا معیشت سے تعلق نہ ہو، اے آر وائی کو انٹرویو

اسلام آباد : وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ وال اسٹریٹ جرنل کے انکشاف کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ آف شور اسکینڈل کا معاملہ ہے، آئی ایم ایف کی تکلیف دہ شرط نہیں مانیں گے۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی، وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی خبر کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں۔

خبر میں آف شور اسکینڈل کا معاملہ ہے، نیب سب سے بڑا تحقیقاتی ادارہ ہے وہی تحقیقات کرے گا، نیب یا ایف آئی اے جس سے چاہیں تحقیقات کراسکتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان چین کے دورے پر جا رہے ہیں، دورہ چین میں کے الیکٹرک کی فروخت کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا، کک بیکس پر ہونے والی ڈیل پی ٹی آئی کو کسی صورت قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں ابراج گروپ کے خلاف تحقیقات کا علم ہے، ابراج گروپ کے الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کو دینا چاہتا ہے، شرائط دیکھیں گے پھر کےالیکٹرک کی فروخت کا فیصلہ ہوگا۔

اگر کک بیکس پر ڈیل ہورہی ہے تو یہ غلط ہوگا۔ کک بیکس پر ہونے والی ڈیل پی ٹی آئی کو قبول نہیں، نوید ملک کے بارے میں جانتا ہوں وہ نواز شریف کے بہت قریب ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اسدعمر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے5سال گزر گئے اور پی آئی اے کی کارکردگی ٹھیک نہ ہوئی تو مجھ سے سوال ہوگا، ایس ای سی پی میں نواز حکومت کے تعینات چیئرمین کو ہٹا دیا گیا،200بلین ڈالرز کی خبر کے پیچھے اسحاق ڈار کا دعویٰ تھا۔

اسحاق ڈارکی 200ارب ڈٖالر کی بات درست نہیں تھی، میرے پوچھے گئے سوال کے جواب میں اسحاق ڈار نے جواب دیا تھا،200ارب ڈالر کے معاملے پر بیرسٹر شہزاد اکبر بہترجواب دے سکتےہیں۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم7نومبر کو مذاکرات کیلئے پاکستان آرہی ہے، حکومت صرف آئی ایم ایف پر انحصارنہیں کررہی، اس کے علاوہ دوسرے آپشنز پربھی کام کررہے ہیں، ہم آئی ایم ایف کی تکلیف دہ شرط نہیں مانیں گے، آئی ایم ایف کی وہ شرط بھی نہیں مانیں گے جس کا معیشت سے تعلق نہ ہو۔

گیس کی قیمت میں اضافے پر اسدعمر نے کہا کہ کمپنیوں کو بند ہونے سے بچانے کیلئے گیس قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،2017میں برینٹ آئل کی قیمت37ڈالر تھی اور ڈالر105روپے کا تھا،آج برینٹ آئل کی قیمت81ڈالر ہے، ڈالر اسٹیٹ بینک کے فیصلے کی وجہ سے بڑھا ہے، سینٹرل بینک کرنسی کے ریٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مجھے ایک دن پہلے بتایا کہ ہم یہ کر رہے ہیں، میں اسی رات کو وزیراعظم کو گورنر اسٹیٹ بینک کاپیغام دیا،اچھے فیصلے کروں یابرے لیکن عوام سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔

ملکی فیصلے معیشت کی بنیاد پر کرنے چاہئیں ،سیاست پر نہیں، درآمدات میں اضافے کی وجہ زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی آتی رہی، زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمی سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں