site
stats
پاکستان

عمران خان کو 10 ارب والی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، اسد عمر

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ عمران خان کو 10 ارب روپے کی پیشکش والی بات نہیں کرنا چاہیے تھی، مریم نواز واضح کریں کہ وزیر اعظم اور سجن جندال کی ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں میزبان کاشف عباسی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری بھی موجود تھیں۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ درست ہے کہ 10 ارب روپے کے حوالے سے کی گئی بات عمران خان کو نہیں کرنی چاہیے تھی، اس شخص کا نام مجھے بھی معلوم ہے لیکن اس شخص کی اجازت کے بغیر اس کا نام لینا کسی طور بھی درست عمل نہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ جب بھی شریف برادران پر کوئی برا وقت آتا ہے تو وہ پیسوں کا سہارا لیتے ہیں۔

 

انہوں نے سوال کیا کہ کیا لوگ چھانگا مانگا کو بھول گئے؟ کیا ہائی کورٹ کے حاضر جج کا یہ کہنا کہ میں تابعدار ہوں لوگ بھول گئے؟ اور کیا لوگ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ بی ایم ڈبلیو کی چابی جو سابق چیف آف آرمی اسٹاف آصف نواز کوبھیجی گئی وہ انہوں نے واپس کردی تھی۔ تو پیسے کا استعمال شریف برادران کی سیاست کا معمول ہے کہ جہاں کام نہ نکلتا ہو وہاں پیسہ لگاؤ۔

اسد عمرنے کہا کہ بھارت کےساتھ ریاستی سطح پربھی تعلقات سب کے سامنے ہیں، ایل او سی،مقبوضہ کشمیر،کلبھوشن کی گرفتاری اہم معاملات ہیں، وزیراعظم دورہ بھارت کے دوران حریت رہنماؤں سے نہیں ملتے اور جندال کے گھر چلے جاتے ہیں، مودی افغانستان سے واپسی پر پاکستان آتا ہے اور مل کر کیک کھایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور یہاں ذاتی دوستی نبھائی جارہی ہے، سجن جندال نریندر مودی کے پیام بر ہیں، کیا حکومت رابطوں کے لیے بیک ڈور چینل استعمال کررہی ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ انفرادی اور ریاستی رابطوں میں فرق ہونا چاہیے، کمزوری دکھائیں گے تودشمن فائدہ اٹھائے گا اور مودی بھی یہی کررہے ہیں، پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے مطالبہ کیا کہ مریم نواز واضح کریں کہ وزیر اعظم اور سجن جندال کی ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں؟

 

لوگ دس ارب کی آفر دینے والے کا نام جاننا چاہتے ہیں، شایہ مری

پی پی رہنما شازیہ مری نے عمران خان کو دس ارب روپے کی آفر سے متعلق کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ایسے نازک حالات میں اس بات کا انکشاف کیا جو کافی اہمیت کا حامل ہے، تو عمران خان کو وہ نام بتا دینا چاہیے کہ آفر کس کے ذریعے کی گئی کیونکہ یہ بات جاننا لوگوں کے لیے  بہت ضروری ہوگیا ہے کہ کون ایسا شخص ہے جس کی دوستی دونوں فریقین سے اتنی مضبوط ہے کہ وہ ایسی پیشکش کر رہا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top