اسلام آباد : سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے بھٹو کے بعد دوسرےشخص بننے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور آنے والے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
سابق وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کی تاریخ میں اس سے بدترین کارکردگی کبھی کسی حکومت کی نہیں رہی اور سرمایہ کاری 50 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جو لوگ بجٹ پیش کرنے جا رہے ہیں، خود ان کی اپنی کارکردگی کیا رہی؟ شہباز شریف تواتر سے بجٹ پیش کرنے والے بھٹو کے بعد دوسرے شخص بننے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خود حکومتی اعدادوشمار گواہی دے رہے ہیں کہ ملک میں معیشت کی رفتار آبادی بڑھنے کی رفتار سے بھی کم ہو چکی ہے، اب یہ واضح طور پر کہا جا رہا ہے کہ آنے والا بجٹ سراسر آئی ایم ایف کا بجٹ ہوگا۔
سابق وزیر نے مزید کہا کہ جب اشرافیہ کے لیے جہاز خریدے جاتے ہیں تو آئی ایم ایف انہیں نہیں روکتا، لیکن عام آدمی پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ حکومت اس بجٹ میں 1500 ارب روپے کے نئے ٹیکس وصول کرنے جا رہی ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ جو غریب شخص بس میں سفر کرتا ہے، اسے بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
سابق رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے پٹرولیم لیوی کو صفر کر دیا تھا، جبکہ موجودہ حکومت نے لیوی کو 50 روپے سے بڑھا کر 113 روپے تک پہنچا دیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے ملکی سیاسی صورتحال اور عدالتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہم انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کھڑے ہیں”، لیکن یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ یہ سیاستدانوں کا کام ہی نہیں ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ کس کو جیل میں ڈالنا ہے اور کس کو نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس حکومت کا اصل مقصد عوام کی خدمت نہیں تھا، انہوں نے جو اپنے کیسز بند کروانے تھے، وہ کامیابی سے کروا لیے ہیں۔


