The news is by your side.

Advertisement

اسد عمر نے ایک بار پھر کے فور منصوبے پر وزیراعلیٰ کو توجہ دلا دی

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کو خط لکھ کر کراچی میں منصوبوں کا معاملا اٹھایا ہے۔

خط کے مطابق وفاقی حکومت کے فور اور دیگر منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے سنجیدہ ہے اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ کراچی کی بطور جدید شہر ترقی ہمارا مشترکہ مقصد ہے، وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے پر عمل درآمد کی ذمہ داری لی تھی۔

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی متعلقہ محکموں کو پی سی ون پر نظر ثانی تیز کرانے کی ہدایات کریں، سندھ حکومت کے ساتھ مل کر منصوبوں پر عمل درآمد کو تیز کیا جائے گا۔

اس سے قبل بھی اسد عمر کے فور منصوبے پر توجہ دلا چکے ہیں، اسد عمر نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت منصوبےپر صوبائی حکومت سےرابطےمیں ہے، وفاقی حکومت کے فور منصوبے کے حوالے سے اپنے وعدے کے مطابق کام کر رہی ہے لیکن منصوبے میں تاخیر ڈیزائن میں مسائل کی وجہ سے ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیسپاک ڈیزائن پرجائزہ رپورٹ کراچی واٹر اینڈ سینی ٹیشن بورڈ کو جمع کراچکا جب کہ سندھ حکومت کی تکینکی کمیٹی رپورٹ کاجائزہ لے کرکام کا کہہ چکی ہے۔

اسدعمر نے کہا کہ منصوبے پر کام کا آغاز صوبائی حکومت کی اجازت کا منتظر ہے، وفاقی حکومت عوام کی سہولت کیلئےذمہ داری پوری کررہی ہے۔

واضح رہے کہ کے فور کی فزیبلٹی رپورٹ میں سنگین غلطیوں کا انکشاف ہوا تھا جس کی تحقیقات کے لیے حکومت سندھ نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

کینجھر جھیل سے کراچی 121 کلو میٹر روٹ میں 2 اہم نہری ذخائر شامل نہیں ہیں، سابقہ کنسلٹنٹ کمپنی نے 2 اہم نہری ذخائر ہالیجی اور ہاڈیروہر کو فزیبلٹی رپورٹ میں شامل نہیں کیا۔

12 سال گزرنے کے بعد کے فور کے تین مرحلوں میں سے ایک بھی مکمل نہ ہو سکا، ذرائع کے مطابق جولائی 2018 تک کے فور کا فیز وَن مکمل ہو جانا تھا، کے فور کے دوسرے اور تیسرے فیز کو 2022 تک مکمل ہونا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں