وزیر خزانہ اسد عمر نے پانامالیکس میں شامل پاکستانیوں کا کچا چٹھا کھول دیا
The news is by your side.

Advertisement

وزیر خزانہ اسد عمر نے پانامالیکس میں شامل پاکستانیوں کا کچا چٹھا کھول دیا

اسلام آباد : وزیرخزانہ اسد عمر نے پانامالیکس میں شامل پاکستانیوں کا کچا چٹھا اسمبلی کے سامنے رکھ دیا، اسد عمر نے تحریری جواب میں کہا اب تک چھ ارب بیس کروڑروپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جبکہ دس ارب نوے کروڑروپے کی کرپشن کے پندرہ کیسزحتمی مرحلے میں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزرات خزانہ نے پانامالیکس میں شامل پاکستانیوں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردی، وزیرخزانہ نے تحریری جواب میں بتایا پاناما لیکس میں چار سو چوالیس پاکستانیوں کے نام شامل ہیں، جس میں سے دو سو چورانوے کو نوٹس جاری کئے جبکہ ایک سو پچاس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لسٹ میں شامل بارہ افراد وفات پا چکے ہیں اورچار پاکستانی شہری نہیں ہیں جبکہ دس ارب نوےکروڑروپےکی کرپشن کے پندرہ کیسز حتمی مرحلے میں ہیں۔

اب تک چھ ارب بیس کروڑروپے کی وصولیاں کی گئی ہیں

اسد عمر

اسد عمر نے تحریری جواب میں کہا اب تک چھ ارب بیس کروڑروپے کی وصولیاں کی گئی ہیں ، وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات میں مدد کیلئے ایف بی آر نے او ای سی ڈی سے مدد مانگی گئی ہے۔

واضح ہے کہ دو برس قبل اپریل میں بحراوقیانوس کے کنارے پر واقع ملک پاناما کی صحافتی تنظیم آئی سی آئی جے نے غیر قانونی اثاثہ جات کی ڈیڑھ لاکھ دستاویزات پامانہ پیپرز کے نام سے شائع کی تھیں، جس کے باعث دنیائے ممالک کی کئی حکومتیں ہل گئیں تھیں۔

پاناما لیکس میں یورپی ملک آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمندر گنلگسن اور اُن کی اہلیہ کا نام سامنے آنے کے بعد عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے بعد انہیں مجبورا وزارت سے مستعفیٰ ہونا پڑا تھا۔ دستاویزات میں سابق برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا نام بھی سامنے آیا، جس کے بعد انہیں عدالتوں میں پیش ہوکر صفائی دینی پڑی تھی۔

پاناما دستاویزات میں سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف سمیت دیگر 400 سے زائد افراد کے نام سامنے آئے تھے، شریف خاندان کی آفشور کمپنیاں منظر عام پر آنے کے بعد نوازشریف نے قوم سے خطاب کر کے مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے بینچ تشکیل دیا گیا، جس نے نوازشریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے آفشور کمپنیوں کی مزید تحقیقات نیب کے سپرد کردی تھیں۔

نومبر 2017 میں سپریم کورٹ نے پانامہ میں نامزد دیگر افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے بینچ بھی تشکیل دیا تھا۔

مزید پڑھیں : دنیا بھرمیں تہلکہ مچانے والی پاناما پیپرز کی نئی لیکس منظرعام پر

اس سے قبل ایف بی آر حکام نے پاناما پیپرز پر تین سو تین افراد کو نوٹسز جاری کیے تھے، چوالیس افراد نے ٹیکس ادارے کے نوٹسز کا جواب دیا جبکہ ان میں سے صرف چودہ پاکستانیوں نے آف شور کمپنیوں کا اعتراف کیا اور تینتیس افراد نے جواب کیلئے مہلت مانگ لیا تھا۔

دسمبر 2017 میں قومی احتساب بیورو (نیب) چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے پاناما لیکس میں آنے والے 435 پاکستانیوں کی آفشور کمپنیوں کی انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے تفصیلات طلب کیں تھیں۔

خیال رہے جون 2018 میں دنیا بھرمیں تہلکہ مچانے والی پاناما پیپرز کی نئی لیکس منظرِ عام پر آگئیں، نئی لیکس میں کئی مشہور افراد کے نام شامل ہیں جبکہ نئے انکشافات میں شریف خاندان سے متعلق کوئی تفصیل نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں