The news is by your side.

Advertisement

فنانس بل: وزیراعظم، گورنرزاوروزراء کا ٹیکس استثنیٰ ختم کردیا گیا

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ اسد عمر نے ضمنی فنانس بل پیش کردیا، وزیراعظم ، گورنرز اور وزراء کا ٹیکس استثنیٰ ختم کردیا گیا ، سب کو عام پاکستانیوں کی طرح ٹیکس دینا ہوگا۔

تفصیلات کےمطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آج بروز منگل ضمنی فنانس بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ، پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے بجٹ پر چلتے تو معاشی لحاظ سے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا فنانس بل میں کہا گیا ہے کہ سابقہ بجٹ میں خسارہ 1900 ارب روپے دکھایا گیا ہے ، اگر اقدامات نہ کیا گئے تو یہ خسارہ 2780 ارب روپے سے تجاوز کرجائے گا۔

پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کےپیش کردہ بجٹ کےمطابق انہیں 8.2 فیصد بجٹ خسارہ ملا تھا، قرضو ں میں 34 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے ، قرضے لینےکے باوجود ہمارےزرمبادلہ کےذخائردو ماہ کےدرآمدات کے لیے بھی نہیں ہے ،زرمبادلہ کےذخائر پانچ سے چھ ہفتے کی سطح پرآئےتوڈالرکی قیمت سب نےدیکھ لی اور زرمبادلہ کےذخائر مزید نیچےآنےسےروپیہ اوردباؤ میں آئےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ روپےکی قدرکم ہونےسےاشیائےخوردونوش تک مہنگی ہوگئی ہیں ۔ روپےکی قدرکم ہوتی ہےتومقامی گیس بھی مہنگی ہوتی ہے،روپےکی قدرکم ہونےسے تمام چیزوں پربراہ راست اثرہوتاہے۔

اسد عمر نے بتایا کہ ملک کے بیرونی قرضے60ارب سےبڑھ کر95ارب ڈالرہوگئےہیں جبکہ سرکلرڈیبٹ میں ساڑھے500ارب روپےکااضافہ ہواہے،حکومتی ڈیبٹ28ہزار ارب سےتجاوزکرگیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ ورکرزڈیویلپمنٹ فنڈ کا40ارب سےزائدوفاق نےروکاہواہے اور مزدوروں کی فلاح کے لیے جوکام ہوتےہیں وہ تمام کام رکےہوئےہیں۔

امیروں پر ٹیکس

فنانس بل پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیراعظم ، وزرا اور گورنرز کا ٹیکس استثنا ختم کردیا گیا ہے ، اب وہ بھی عام پاکستانیوں کی طرح ٹیکس دیں گے۔ صرف صاحب ِ حیثیت لوگوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے۔بتایا گیا کہ صرف 70 ہزار متمول شہریوں کی ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے، باقی ہر پاکستانی کا ٹیکس ریٹ گزشتہ سال کی نسبت کم ہی ہوگا۔

یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں دنیاکاسب سےسستاترین سگریٹ ملتاہے،تمباکوپرٹیکسوں میں اضافہ کیاجائےگا اوراسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کااستعمال کیاجائے گا۔ دوسری جانب 1800سی سی سےبڑی گاڑی پر ڈیوٹی20 فیصدکی جارہی ہے۔

کہا گیا ہے کہ سالانہ 12 لاکھ آمدن والے لوگوں پرٹیکس نافذ نہیں ہوگا۔

سی پیک اور ترقیاتی منصوبے

سی پیک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی پروگرام میں کمی نہیں آئےگی۔ کسی بھی پروگرام میں ایک روپے کی بھی کمی نہیں کی جاسکتی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر725ارب روپےخرچ کریں گے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ 725 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے 50 ارب صرف کراچی کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا تیس سال آگے نکل گئی ہے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔

پیٹرولیم لیوی اور صنعتیں

حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیاجائےگا، درآمدی صنعتوں کے لیے ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے جبکہ درآمدی صنعتوں کے لیے خام مال پرریگولیٹری ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانی

یہ بھی کہا گیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کوٹیکس فائل کرنےکی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ یہاں سرمایہ کاری کرسکیں گے۔ٹیکس فائلرزپرکسی قسم کابوجھ نہیں ڈالاجائےگا۔

نا فائلرز کو سہولت

حکومت نے حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے فائلراورنان فائلرکافرق ختم کردیا، وزیر خزانہ اسد عمر نے اعلان کیا کہ نان فائلرزبھی گاڑی اورپراپرٹی خریدسکتےہیں، گزشتہ بجٹ کےمطابق نان فائلرزپراپرٹی اورگاڑی نہیں خریدسکتےتھے ۔

دیگر اعلانات

کسانوں کی فلاح و بہبو د اور بہتری کے لیے یوریاکےلیے6 سے 7ارب روپےکی سبسڈی کی منظوری دی جاچکی ہے۔

صحت کاانصاف پروگرام فاٹا اوراسلام آبادمیں بھی شروع کیاجائیگا جبکہ فی خاندان 5 لاکھ 40 ہزار روپے صحت کی مد میں دئے جائیں گے۔

گھروں کی تعمیرکے لیے ساڑھے4ارب روپےجلدسےجلدمختص کیےجائیں گے اور دس ہزار گھروں کی تعمیر پر جلد کام شروع کریں گے۔

کم سےکم پنشن میں10فیصداضافہ کیاجارہاہے،نئی ٹیکنالوجی کااستعمال کرکے92ارب روپےکاٹیکس حاصل کریں گے۔نان فائلرزکے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پرٹیکس بڑھاکر0.6کیاجارہاہے۔


اسد عمر نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ کسی حکومت پرالزام نہیں لگائیں گےبےشک ان کےدورمیں بھی حالات برےتھے اور ہمیں تسلیم کرناہوگا کہ بہت کچھ ٹھیک نہیں ہورہاتھا۔ان حالات سےنکلنےکیلئےہمیں تبدیلی کی طرف جاناہوگا

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نےترقی کرنی ہےاس میں بلاول بھٹو اورشہبازشریف سمیت سب شراکت دارہوں گے، پاکستان ایساملک بننےجارہاہےجس پردنیابھی رشک کرےگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں