The news is by your side.

Advertisement

”بیرونی مداخلت سے آئی حکومت عوام کیلیے فیصلے نہیں کر سکتی“

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں، جو حکومت بیرونی مداخلت سے آئی ہو عوام کے لیے فیصلے نہیں کر سکتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مدت سے متعلق کوئی بات نہیں کی، مریم اورنگزیب تو مدت پوری کرنے کی قوم کو دھمکی دے رہی تھیں، موجودہ حکومت کو پتہ ہے پہلے دن ہی اس کو عوام نے مسترد کر دیا تھا، قوم کو پتہ ہے بیرونی طاقت اور لوگوں کے ضمیروں کو خرید کر یہ حکومت آئی، یہ لوگ حکومت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ حکومت ملک کو دلدل میں پھنساتی چلی جا رہی ہے، مراسلے کی تصدیق کرنے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شہباز شریف بھی تھے، قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں میں مداخلت کی تصدیق کی گئی تھی، مفتاح کہتے تھے تیل کی قیمت 137 روپے سے ایک روپے نہیں بڑھائیں گے، مشکل  فیصلے عمران خان نے کیے تھے کہ آئی ایم ایف کے سامنے نہیں لیٹیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا عوام پر بوجھ نہیں ڈالوں گا ہم روس سے تیل لیں گے، انہوں نے تو شاہی فرمان جاری کر دیا کہ پیٹرول کی قیمت 30 روپے بڑھا دو، حکومت ان سے سنبھالی نہیں جا رہی، روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے، مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ کے ذریعے جو پیسے آئے وہ ہی خزانے میں جمع کرادیں، عمران خان جس قیمت پر آٹا چھوڑ کر گئے تھے اسی قیمت پر ہی لے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹور میں قیمتیں کم کرنے کے اعلان سے بے وقوف بنا رہے ہیں، کرپشن پر لیکچر شہباز شریف کے منہ سے اچھا نہیں لگتا، مقصود چپڑاسی والے پیسے خزانے میں جمع کرائیں پھر کرپشن پر لیکچر دیں، عمران خان پر انہوں نے ہر قسم کا الزام لگا کر دیکھ لیا، عمران خان ملک کی خدمت کیلئے آئے، ایک روپے کی کرپشن نہیں کی، عمران خان نے اپنے کسی رشتے دار کو عہدہ نہیں دلوایا، عوام امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر چکی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ن لیگ کے سیاستدان بھی کہتے ہیں کہ ہماری سیاست غرق ہو رہی ہے، لولی لنگڑی، امپورٹڈ، بھکاری حکومت سے ن لیگی سیاستدان بھی تنگ ہیں، عمران خان پر الزامات ن لیگ نے لگائے تھے اور سپریم کورٹ لے گئے تھے، عمران خان نے سپریم کورٹ میں 40 سال پرانی دستاویزات تک دکھائیں، عمران خان نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد یا بچوں سے پوچھیں، عمران خان کوئی قطری خط بھی نہیں لایا، عمران خان پر کیس چلا اور آخر میں سپریم کورٹ نہیں صادق اور امین قراردیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں