جمعہ, اگست 7, 2026
اشتہار

اصغر گونڈوی: غزل گو شعرا میں ایک قابلِ ذکر نام

اشتہار

حیرت انگیز

اصغر کی شاعری اصلاً تصوف کی شاعری ہونے کے باوجود ان شاعروں‌ سے مختلف ہیں جنھوں نے اپنے کلام کو صوفیانہ خیالات سے سجایا۔ اس کی وجہ وہ پیرایۂ بیان ہے جو دل کش بھی ہے، رنگین اور مسرت افزا بھی اپنے دور کی شعری روش سے کچھ منفرد بھی۔ غزل گو شعرا میں اصغر گونڈوی اپنے رنگِ تغزل اور تصوف کی آمیزش کے سبب مشہور ہیں۔

آج اصغر گونڈوی کا نام شاذ ہی کسی کے ذہن میں‌ چمکتا ہو، مگر کلاسیکی دور کی شاعری اور مشہور شعرا کے تذکرے میں ہمیں‌ ان کا نام ضرور پڑھنے کو ملتا ہے۔ 30 نومبر 1936ء کو اصغر گونڈوی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ اصغر گونڈوی نے 1884ء میں آنکھ کھولی۔ وہ گورکھ پور میں‌ پیدا ہوئے تھے، تاہم روزگار کے سلسلے میں‌ والد نے گونڈہ ہجرت کی تو اسی شہر کی نسبت اصغر نے اپنے نام سے جوڑ لی اور اصغر گونڈوی کہلائے۔ ان کا اصل نام اصغر حسین تھا۔ اس زمانہ کے دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی۔ بعد میں مکتب گئے مگر ادبی تذکرے بتاتے ہیں کہ انھو‌ں نے باقاعدہ اور رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ البتہ شروع ہی سے علم و ادب اور مطالعے کے رسیا تھے اور اسی دل چسپی کے سبب علمی استعداد کے ساتھ شاعری میں بھی کمال حاصل کیا۔ مشہور ہے کہ وہ منشی جلیل اللہ وجد بلگرامی اور منشی امیراللہ تسلیم سے اصلاح لیتے رہے اور بعد میں یہ سلسلہ ترک کردیا۔ انھوں نے اپنے دور میں صحافت بھی کی۔

اصغر گونڈوی کا کلام شستہ اور پاکیزہ خیالات کا مجموعہ ہے جس میں‌ فنی نزاکتوں کے ساتھ رومان پرور جذبات اور اخلاقی مضامین بھی پڑھنے کو ملتے ہیں۔

چند اشعار دیکھیے:

آلامِ روزگار کو آساں بنا دیا
جو غم ملا اسے غمِ جاناں بنا دیا

زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا
رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

اصغر گونڈوی کے یہ دو اشعار بہت مشہور ہیں:

یہاں کوتاہیِ ذوقِ عمل ہے خود گرفتاری
جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں، زندگی دشوار ہوجائے

کہتے ہیں کہ ان کے مزاج میں نفاست بہت تھی وہ عمدہ چیزوں کے شوقین تھے اور نازک مزاجی یا تکبر ان کو چھو بھی نہیں گئے تھے۔ ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ ان کے ملنے والوں میں اہل علم ہی نہیں، آوارہ اور رند بھی شامل تھے کیوں کہ وہ ہر ایک سے راہ و رسم رکھتے تھے اور اپنے ملاقاتیوں کو عزت دیتے تھے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں