اصغرخان کیس، سپریم کورٹ کا کابینہ کے فیصلے پرعملدرآمد کا حکم، ایک ماہ میں رپورٹ طلب
The news is by your side.

Advertisement

اصغرخان کیس، سپریم کورٹ کا کابینہ کے فیصلے پرعملدرآمد کا حکم، ایک ماہ میں رپورٹ طلب

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں وزارت دفاع سے کابینہ کے فیصلے پرعملدرآمد کرکے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی، چیف جسٹس نے کہا حکم پر عمل نہ ہوا تو وزارت دفاع کے بجائے ملٹری اتھارٹی کو طلب کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمرعطا بندیال اور جسٹس اعجازالاحسن پرمشتمل تین رکنی بینچ نے اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے وزارت دفاع سے کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کر کے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی اور کہا قانون سے کوئی بالا نہیں،عدالتی حکم پر عمل ہونا چاہئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اصغر خان کیس میں آرمی افسران کے خلاف ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہونا چاہیے، اگر عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو وزارت دفاع کے بجائے ملٹری اتھارٹی کو طلب کریں گے، قانون سے کوئی بالا نہیں،عدالتی حکم پرعمل ہونا چاہیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے وزارت دفاع کے نمائندے سے استفسار کیا اب تک فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟ جس پر ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع نے کہا وزارت داخلہ کی سمری ابھی تک ہمیں نہیں ملی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہا آپ کتنے دن میں تفصیلی رپورٹ دیں گے، جس کے بعد عدالت نے 4 ہفتے کا وقت دیتے ہوئے وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا وزارت دفاع ایف آئی اے کو ضروری معلومات مہیا کرے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا سیاست دان ایف آئی اے سے تعاون کر رہے ہیں، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا ظفراللہ جمالی نے بعد الیکشن بیان ریکارڈ کرانے کا کہا جبکہ حاصل بزنجو، لیاقت جتوئی اورہمایوں کے بیان ریکارڈ کرلیے ہیں۔

چیف جسٹس نے یہ کہتے ہوئے سماعت پندرہ ستمبر تک ملتوی کردی کہ تحقیقات میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔

یاد رہے  سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغر خان کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے سزا یافتہ سابق وزیراعظم نوازشریف، مرزا اسلم بیگ، اسد درانی، اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کردیے تھے۔

واٰضح رہے سپریم کورٹ نے رواں سال 4 مئی کو اصغرخان کیس کو سماعت کے لیے مقرر کیا تھا اور 8 مئی کو سماعت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اصغرخان کیس سے متعلق فیصلے پرعملدرآمد کا حکم دیا تھا۔


،مزید پڑھیں : سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کردیں


چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت اصغرخان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جاچکی ہیں اور اب عدالتی فیصلے پرعملدرآمد ہونا ہے۔

بعدازاں 12 جون کو سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس کی سماعت کے دوران وزارت دفاع سمیت تمام اداروں کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا تھا اصغرخان عمل درآمد کیس میں مزید تاخیر برداشت نہیں کریں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں