The news is by your side.

Advertisement

اسٹیل تیّار کرنے والی دیہاتی عورتیں‌

دین میں ہر معاملے میں ڈسپلن سکھایا گیا ہے۔ ہمارے بابے کہتے ہیں کہ ڈسپلن چھوٹے کاموں سے شروع ہوتا ہے۔

جب آپ معمولی کاموں کو اہمیت نہیں دیتے اور ایک لمبا منصوبہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں، اپنا ذاتی اور انفرادی، تو پھر آپ سے اگلا کام چلتا نہیں۔

کافی عرصہ پہلے میں چین گیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب چین نیا نیا آزاد ہوا تھا۔ ہم سے وہ ایک سال بعد آزاد ہوا۔ ان سے ہماری محبتیں بڑھ رہی تھیں اور ہم ان سے ملنے چلے گئے، افریقہ اور پاکستان کے کچھ رائٹر چینی حکام سے ملے۔

ایک گاؤں میں بہت دور پہاڑوں کی اوٹ میں کچھ عورتیں بھٹی میں دانے بھون رہی تھیں۔ دھواں نکل رہا تھا۔ میرے ساتھ شوکت صدیقی تھے۔ کہنے لگے، یہ عورتیں ہماری طرح سے ہی دانے بھون رہی ہیں۔

جب ہم ان کے پاس پہنچے تو دو عورتیں دھڑا دھڑ پھوس، لکڑی جو کچھ ملتا تھا، بھٹی میں جھونک رہی تھیں۔ اپنے رومال باندھے کڑاہے میں کوئی لیکوڈ (مائع) سا تیار کر رہی تھیں۔ ہم نے اُن سے پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ تو اُنہوں نے کہا کہ ہم اسٹیل بنا رہی ہیں۔ میں نے کہا کہ اسٹیل کی تو بہت بڑی فیکٹری ہوتی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اور چین ابھی آزاد ہوا ہے۔ ہمارے پاس کوئی اسٹیل مِل نہیں ہے۔ ہم نے اپنے طریقے کا اسٹیل بنانے کا ایک طریقہ اختیار کیا ہے کہ کس طرح سے سندور ڈال کر لوہے کو گرم کرنا ہے۔

یہ عورتیں صبح اپنے کام پر لگ جاتیں اور شام تک محنت اور جان ماری کے ساتھ اسٹیل کا ایک ڈلا یعنی پانچ، چھے، سات آٹھ سیر اسٹیل تیار کر لیتیں۔ ٹرک والا آتا اور ان سے آکر لے جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے ہم اس اسٹیل کے بدلے لے لیتے ہیں۔

میں اب بھی کبھی جب اس بات کو سوچتا ہوں کہ سبحان اللہ، ان کی کیا ہمّت تھی۔ ان کو کس نے ایسے بتا دیا کہ یہ کام ہم کریں گی تو ملک کی کمی پوری ہوگی۔ چھوٹا کام بہت بڑا ہوتا ہے۔ اس کو چھوڑا نہیں جا سکتا، جو کوئی اسے انفرادی یا اجتماعی طور پر چھوڑ دیتا ہے، مشکل میں پڑ جاتا ہے۔

(معروف ادیب اور ڈراما نویس اشفاق احمد کے مضمون “چھوٹا کام” سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں