آشیانہ اسکینڈل: عدالت کا آئندہ سماعت پرشہبازشریف کو پیش کرنے کا حکم -
The news is by your side.

Advertisement

آشیانہ اسکینڈل: عدالت کا آئندہ سماعت پرشہبازشریف کو پیش کرنے کا حکم

لاہور: احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی ، عدالت نے آئندہ سماعت پر شہباز شریف کو پیش کرنے کا حکم صادر کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور کی احتساب عدالت میں جج نجم الحسن بخاری نے کیس کی سماعت کی ، سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل نے شہباز شریف کی میڈکل بورڈ اور عدم پیشی سے متعلق جواب احتساب عدالت جمع کروا دیا۔

جیل حکام نے بتایا کہ شہباز شریف کو میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کرنا ہے،عدالت اور میڈیکل بورڈ کی تاریخ ایک ہونے کے باعث شہباز شریف کو عدالت پیش نہیں کیا جا سکا، فواد حسن فواد اور احد چیمہ سمیت شریک ملزموں کوعدالت پیش کر دیا گیا۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ میڈیکل بورڈ نے اجازت دی تو شہباز شریف کو پیش کرنے میں کوئی اعتراض نہیں۔نیب پراسیکیوٹر وارث جنجوعہ نے کہا گذشتہ دو پیشیوں سے یہی بات کی جا رہی ہے ،معاملے کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے ۔

سماعت کے دوران عدالت نے تین مفرور ملزموں کامران کیانی، ندیم ضیاء اور خالد کو اشتہاری قرار دینے کی کاروائی کا آغازکر دیا، ساتھ ہی ساتھ عدالت نے آئندہ سماعت پر شہباز شریف کو پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔

عدالت نے 11 فروری تک تینوں مفرور ملزموں کے خلاف اشتہار شائع کرنے کا حکم دے دیا جبکہ نیب سے ریفرنس کی صاف کاپیاں بھی طلب کر لیں۔ آشیانہ اقبال کیس کی مزید سماعت 24 جنوری کو کی جائے گی۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے آشیانہ اسکینڈل میں گرفتار شہباز شریف کو گزشتہ سال اکتوبر میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا تھا اور نیب کی مزید جسمانی ریمانڈکی استدعا مستردکردی تھی ۔

آشیانہ اقبال اسکینڈل کیس میں گرفتار احد چیمہ اور فواد حسن فواد نے تمام ملبہ شہباز شریف پر ڈال کروعدہ معاف گواہ بن گئے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ جو کچھ کیا شہباز شریف کے کہنے پر کیا۔ واضح رہے نیب لاہور نے5 اکتوبر کو شہبازشریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم ان کی پیشی پر انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں کرپشن کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ نیب نے 21 نومبر 2018 کو آشیانہ اقبال اسکینڈل کے حوالے سے ریفرنس تیار کیا تھا، شہباز شریف پر الزام ہے کہ انھوں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے منظور نظر افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، اور بہ حیثیت وزیرِ اعلیٰ غیر قانونی طور پر پی ایل ڈی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طاقت کا غیر قانونی استعمال کیا تھا۔ اسکینڈل میں نیب کی جانب سے شہباز شریف کے خلاف گواہوں کی فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے، گواہان کی فہرست 29 گواہان پر مشتمل ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں