The news is by your side.

Advertisement

قندوز میں مدرسے پر حملہ: افغان صدر نے تحقیقات کا حکم دے دیا

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے 2 روز قبل قندوز میں مدرسے پر ہونے والے فضائی حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ قندوز میں مدرسے پر فضائی حملے میں بچوں سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

افغان صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی میں واقع مدرسے پر 2 روز قبل افغان فورسز کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ فورسز کے مطابق یہ حملہ طالبان کے تربیتی مرکز پر کیا گیا تھا جہاں انہیں طالبان کمانڈروں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔

ان کے دعوے کے مطابق حملے میں 20 سے زائد طالبان کمانڈر ہلاک ہوئے تھے، تاہم اسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔

بعد ازاں رپورٹس سامنے آئیں کہ حملے میں نشانہ بننے والا مقام مدرسہ تھا جہاں حافظ قرآن بچوں کی تقریب تقسیم اسناد جاری تھی جس میں شرکت کے لیے ان کے اہلخانہ اور رشتہ دار بھی آئے تھے۔

جلد ہی ان رپورٹس کی تصدیق ہوگئی جب طالبان کی جانب سے بھی بیان جاری کردیا گیا کہ حملے میں نشانہ بننے والا مدرسہ تھا اور مدرسے میں کوئی بھی جنگجو موجود نہیں تھا جبکہ مارے جانے والے عام شہری اور حافظ قرآن بچے تھے۔

طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ مارے جانے والوں کی تعداد سو سے زائد ہے، افغان حکام ابتدا میں 20 افراد کی ہلاکت پر مصر رہے تاہم بعد میں افغان سیکیورٹی کے ایک اہلکار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے 59 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

ایک روز بعد افغان وزارت دفاع کے حکام نے فضائی حملے میں شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا ہے جس کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے بھی مدرسے پر فضائی حملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اس سے قبل حکومتی اہلکار مدرسے پر بمباری اور عام شہریوں و بچوں کی ہلاکت سے انکاری تھے اور متضاد بیانات دے رہے تھے۔

اقوام متحدہ نے بھی قندوزحملے میں شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں موجود امریکی افواج نے واقعے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ قندوز میں فضائی کارروائی میں امریکی فورسز شامل نہیں تھیں اور یہ کارروائی صرف افغان فورسز کی جانب سے عمل میں لائی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں