پاکستانی فلموں کی اداکارہ آسیہ بیگم کو فلم بین پری چہرہ کے نام سے یاد کرتے تھے جنھوں نے ایک دہائی تک لاکھوں دلوں پر راج کیا۔ آسیہ بیگم نے اپنی لاجواب اداکاری فلم بینوں کو اپنا مداح بنا لیا تھا۔ آج اس اداکارہ کی برسی منائی جارہی ہے۔ آسیہ بیگم کینیڈا میں مقیم تھیں اور وہیں 2013ء میں وفات پائی۔
آسیہ بیگم نے 70ء کی دہائی میں فلمی سفر کا آغاز کیا تھا اور یہ وہ دور تھا جب پنجابی فلمیں زبردست بزنس کررہی تھیں۔ آسیہ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے انھیں زیادہ تر پنجابی فلموں میں کردار آفر ہوئے۔ بعد میں سنیما کی رونقیں ماند پڑتی چلی گئیں مگر آسیہ بیگم نوّے کی دہائی تک اس سے وابستہ رہیں۔ انھوں نے اپنی اوّلین دہائی کے فلمی سفر میں کئی کام یاب فلمیں کی تھیں۔ آسیہ بیگم 1951ء میں کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کا اصل نام فردوس تھا۔ پنجابی فلموں کے دورِ عروج میں انھوں نے ہر مقبول فلمی ہیرو کے ساتھ کام کیا تھا۔ انھیں 1977ء میں بہترین اداکارہ اور 1979ء میں بہترین معاون اداکارہ کا نگار ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔
آسیہ کو بچپن سے ہی فن اداکاری اور میوزک سے بے پناہ دل چسپی تھی اور اسی شوق کی خاطر انھوں نے فلم کا میدان اپنے لیے چنا۔ اُردو فلموں سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ ان کی پہلی فلم ”انسان اور آدمی‘‘ تھی جو سپر ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ نامور ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ریاض شاہد نے اپنی فلم ’’غرناطہ‘‘ میں آسیہ کو کاسٹ کیا تھا جو اس وقت گمنام اداکارہ تھی مگر دبلی پتلی، گوری رنگت اور تیکھے نین نقش والی اس لڑکی کی یہ فلم باکس آفس پر ہٹ ہوگئی۔ اس کے بعد آسیہ کو جس فلم نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا وہ رنگیلا کی ”دل اور دنیا‘‘ تھی۔ اس فلم میں آسیہ نے اندھی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا۔ 1971ء میں ریلیز ہونے والی اس فلم کو زبردست کام یابی ملی اور آسیہ کو عروج حاصل ہوا۔ ہدایت کار کیفی مرحوم کی فلم ’’جگا گجر‘‘ میں آسیہ نے ایک جٹی کا کردار ادا کر کے بھی شائقین کو اپنا مداح بنا لیا تھا۔
اداکارہ آسیہ کو ان کے حسن و جمال کے سبب پری چہرہ کہا جانے لگا تھا۔ اخبار اور فلمی رسائل میں انھیں اسی نام سے لکھا اور یاد کیا جاتا تھا۔ آسیہ کی مشہور فلموں میں ”بھریا میلہ، میدان، چالان، غنڈہ ایکٹ، نوکر ووہٹی دا، حشر نشر، بدتمیز، دلدار صدقے، یارانہ، ریشماں جوان ہو گئی، ایماندار، حسینہ مان جائے گی، وعدہ، بڑے میاں دیوانے، قانون شکن، تم سلامت رہو، جیرا بلیڈ اور محبوب میرا مستانہ‘‘ شامل ہیں۔
آسیہ کو زیادہ تر پنجابی فلموں کی آفرز ہوئیں۔ پنجابی فلموں میں سلطان راہی کے ساتھ ان کی جوڑی خوب پسند کی گئی۔ ”مولا جٹ، وحشی جٹ، گوگا شیر، شیر میدان دا، مولا جٹ ان لندن، اتھرا پتر‘‘ سمیت درجنوں فلموں میں آسیہ اور سلطان راہی کو اکٹھا دیکھا گیا۔ اداکارہ نے مشہور اداکار اقبال حسن،لالہ سدھیر اور شاہد کے ساتھ بھی کام کیا۔
اردو فلموں کی بات کی جائے تو آسیہ کی ”سہرے کے پھول‘‘ کا ذکر ضرور کیا جائے گا جس میں اداکار ندیم ان کے ہیرو تھے۔ لالی وڈ کی اس کام یاب فلم کے گیت بہت مقبول ہوئے تھے۔ فلم سازوں نے انھیں کئی مقبول اداکاروں کے ساتھ ہیروئن کے طور پر پیش کیا کیا اور پھر کامیڈین اور ولن آرٹسٹوں کے ساتھ بھی مرکزی کردار سونپے۔ مصطفیٰ قریشی کے ساتھ بھی آسیہ نے کام کیا تھا۔ شادی کے بعد 90ء کی دہائی میں آسیہ کینیڈا منتقل ہوگئی تھیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


