ایشیا کپ 2018: پاکستان کو شکست دے کر بنگلہ دیش کی فائنل تک رسائی
The news is by your side.

Advertisement

ایشیا کپ 2018: پاکستان کو شکست دے کر بنگلہ دیش کی فائنل تک رسائی

ابوظہبی: ایشیا کپ 2018 سپر فور مرحلے کے چھٹے اور آخری میچ میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو  37 رنز سے باآسانی شکست دے کر فائنل تک رسائی حاصل کرلی، ایشیا کپ کا فائنل میچ بنگلادیش اور بھارت کے درمیان 28 اپریل کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ابوظہبی کے شیخ زید اسٹیڈیم میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان کھیلا جانے والا چھٹا میچ دراصل سیمی فائنل تھا کیونکہ میچ کی فاتح ٹیم کو فائنل میں بھارت سے ٹکرانا گی۔

بنگلہ دیش کے کپتان مشرفی مرتضیٰ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا اعلان کیا، پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بنگال ٹائیگرز نے 48.5 اوورز میں 239 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 240 رنز کا ہدف دیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ مایوس کن رہی اور صرف 18 کے مجموعی اسکور پر کپتان سرفراز سمیت تین کھلاڑی پویلین روانہ ہوئے، امام الحق 85 ، آصف علی 31 اور شعیب ملک 30 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے جبکہ مستفیض الرحمان چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر کے نمایاں باؤلر رہے۔

پاکستانی ٹیم اننگز

ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی جانب سے اوپننگ کے لیے امام الحق اور فخرزمان کریز پر آئے، زمان ایک بار پھر ناکام ہوئے اور پہلے ہی اوور میں صرف ایک رن بناکر پویلین واپس روانہ ہوگئے، پاکستان کی پہلی وکٹ 2 کے مجموعی اسکور پر گری، اگلے ہی اوور میں بابر اعظم مستفیض الرحمان کی بال پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، کپتان سرفراز احمد بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹک نہ سکے اور صرف 10 رنز بناکر پویلین واپس لوٹے، 5 اوورز کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کا مجموعی اسکور 3 وکٹوں کے نقصان پر 21 تک پہنچا۔

اگلے پانچ اوور میں شعیب ملک اور امام الحق نے محتاط انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے مجموعی اسکور کو 37 تک پہنچایا، دونوں بلے بازوں نے پندرہویں اوور تک ٹیم کا مجموعی اسکور 56 تک پہنچایا۔

بیسویں اوور میں ٹیم کا مجموعی اسکور تین وکٹوں کے نقصان پر 85 تک پہنچا، اگلے اوور کی دوسری گیند پر شعیب ملک نے گیند کو باؤنڈری تک پہنچانے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہے کیونکہ روبیل حسن کی گیند پر مشرفی مرتضی نے اُن کا ناقابل یقین کیچ لیا، ملک نے 51 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 30 رنز اسکور کیے۔

نئے آنے والے بیٹسمین شاداب خان تھے جنہوں نے اوپنر انعام الحق کا ساتھ دیا، پچیسویں اوور کے اختتام پر پر ٹیم کا مجموعی اسکور 94 تک پہنچا، اگلے ہی اوور میں شاداب خان 24 گیندوں پر 4 رنز بناکر پویلین لوٹے، پاکستانی کی چوتھی وکٹ 94 کے مجموعی اسکور پر گری، 30ویں اوور کے اختتام تک ٹیم کو مجموعی اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 108 تک پہنچا۔

 دونوں بلے بازوں نے دفاعی انداز میں بیٹنگ کے سلسلے کو جاری رکھا، اگلے پانچ یعنی 35ویں اوور کے اختتام تک ٹیم کا مجموعی اسکور 5 وکٹوں کے نقصان پر 140 تک پہنچا۔ چالیسویں اوور کی دوسری گیند پر آصف علی اسٹمپ آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے انہوں نے 47 گیندوں پر 31 رنز اسکور کیے، اوور میڈن رہا جس کے بعد اختتام پر ٹیم کا مجموعی اسکور 165/5 تک پہنچا۔

اکتالسویں اوور میں امام الحق شارٹ کھیلنے کے چکر میں کریز سے باہر نکلے اور اسٹمپ ہوکر پویلین روانہ ہوئے، انہوں نے 105 گیندوں پر 1 چھکے اور 2 چوکوں کی مدد سے 83 رنز بنائے, چوالیسویں اوور میں حسن علی 8 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے، 45 اوورز کے اختتام پر پاکستانی ٹٰم کا مجموعی اسکور  8 وکٹوں کے نقصان پر 186 تک پہنچا۔

محمد نواز اگلے ہی اوور کی پہلی گیند پر 8 رنز بناکر آؤٹ ہوئے،

بنگلادیشی اننگز کا مختصر خلاصہ

بنگالہ دیش کی ابتدائی تین وکٹیں 12 کے مجموعی اسکور پر گر گئیں تھیں پھر متھن اور مشفیق الرحیم نے کریز سنبھالی اور 144 رنز کی پارٹنر شپ بنائی، مشفیق الرحیم 99 اور محمد متھون 60 رنز کے ساتھ نمایاں بلے باز رہے۔

محمد عامر کی جگہ لینے والے باؤلر جیند خان نے 1 میڈن سمیت 9 اوور پھینکتے ہوئے 19 رنز دے کر چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور نمایاں گیند باز رہے جبکہ شاہین آفریدی، حسن علی 2 ، 2 وکٹیں حاصل کر سکے۔

بنگال ٹائیگرز اننگز تفصیل

اننگز کے تیسرے اوور میں جنید خان نے اوپنر سومیا سرکار کو بغیر کھاتہ کھولے کلین بولڈ کیا، اگلے اوور میں شاہین آفریدی نے بھی مومن الحق کو کلین بولڈ کیا، بنگلہ دیش کی پہلی وکٹ 5 جبکہ دوسری اور تیسری 12 کے مجموعی اسکور پر گری۔ بنگال ٹائیگرز نے چار اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 12 رنز بنائے۔

بعد ازاں مشفیق الرحیم اور محمد مٹھو نے آکر محتاط انداز میں عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور پاکستان کے تمام باؤلرز کو اعتماد کے ساتھ کھیلا، 24ویں اوور کے اختتام تک مشرفی الیون نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 99 رنز اسکور کیے۔

چھبیسویں اوور میں مشفیق الرحیم نے 68 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے ففٹی مکمل کی جبکہ اسی اوور میں دونوں بلے بازوں نے 129 گیندوں پر 100 رنز کی پارٹنر شپ بھی بنائی۔ تیسویں اوور کے اختتام تک مخالف ٹیم کا مجموعی اسکور 3 وکٹوں کے نقصان پر 138 تک پہنچا، اسی دوران متھون نے بھی اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

چونتسویں اوور کی چوتھی گیند پر متھون 84 گیندوں پر 4 چوکوں کی مدد سے 60 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد حسن علی کی گیند اُن ہی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، 35 اوورز کے اختتام پر مشرفی الیون کا مجموعی اسکور چار وکٹوں کے نقصان پر 163 تک پہنچا۔

نئے آنے والے بیٹسمین عمرالقیس 9 رنز بنا کر شاداب خان کی بال پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے، چالیسویں اوور کے اختتام تک بنگلہ دیشی ٹیم نے پانچ وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز اسکور کیے۔

وکٹ کیپر مشفیق الرحیم کے لیے شاہین شاہ آفریدی کا اوور بدقسمت ثابت ہوا کیونکہ وہ 99 کے انفرادی اسکور پر سرفراز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، 45 اوورز کے اختتام پر ٹیم کا مجموعی اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 221 تک پہنچا۔

نئے آنے والے بلے باز اگلے ہی اوور میں جنید خان کی بال پر کیچ آؤٹ ہوئے، انہوں نے 12 رنز بنائے، یوں بنگلہ دیش کی ساتویں وکٹ گری، جنید خان نے اگلے ہی اوور میں محموداللہ کو کلین بولڈ کیا، حسن علی نے 49ویں اوور میں روبیل کو رن آؤٹ کیا اور آخری بال پر مشرفی مرتضی کیچ آؤٹ ہوئے۔


بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے جانے والے میچ کے دوران قومی ٹیم میں فاسٹ بولر محمد عامر کو تبدیل کرکے فاسٹ بولر جیند خان کو 11 رکنی اسکوڈ میں شامل کیا گیا اور انہوں نے چار وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

پاکستانی ٹیم کا اسکواڈ

فخر زمان، امام الحق، بابراعظم، شعیب ملک، کپتان سرفراز احمد، آصف علی، حسن علی، شاداب خان، محمد نواز، شاہین شنواری اور جنید خان

بنگلہ دیشی ٹیم کا اسکواڈ

لیتن داس، سومیا سرکار، محمد متھون، مشفق الرحیم، مومن الحق، عمرالقیس، محمد اللہ، کپتان مشرفی مرتضیٰ، مہیدا حسن، روبیل حسین اور مستفیض الرحمان

یاد رہے کہ قومی کرکٹ ٹیم اور بنگلا دیش کے درمیان اس سے قبل 35 ایک روزہ میچ کھیلے جاچکے ہیں جس میں 31 میچز میں پاکستان جبکہ 4 ایک روزہ میچز میں بنگلہ دیش نے فتح اپنے نام کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں