دبئی (17 ستمبر 2025): یو اے ای میں جاری ایشیا کپ میں تنازع ختم نہیں ہوا پی سی بی نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت کی میزبانی میں ہائبرڈ ماڈل کے تحت متحدہ عرب امارات میں کھیلا جانے والا ایشیا کپ 2025 کرکٹ میچز سے زیادہ اس میں پیدا ہونے والے تنازعات کے باعث موضوع بحث ہے۔ ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل بھارتی ٹیم کی شرکت کے معاملے نے ایونٹ کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگایا ہوا تھا۔
یہ مسئلہ حل ہوا تو روایتی حریفوں کے درمیان پاک بھارت ٹاکرا جس کا پوری دنیا میں شائقین کرکٹ شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ یہ ہائی وولٹیج میچ کھیل میں سیاست لانے کے باعث سنگین تنازع کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
مذکورہ میچ میں سب سے زیادہ شور زمبابوے سے تعلق رکھنے والے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کا پاکستانی کپتان سلمان علی آغا کو بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو سے ہاتھ نہ ملانے کا کہا تھا جب کہ میچ کے بعد بھی بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔
اس معاملے کو لے کر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سخت موقف اپنایا جس کے بعد اینڈی کرافٹ نے پاکستان ٹیم سے معافی مانگی۔ تاہم اس واقعہ سے زیادہ سنگین واقعہ میچ کے بعد بھارتی کپتان سوریہ کمار یادیو کی متنازع گفتگو تھی۔
سوریہ کمار یادیو نے جان بوجھ کر اپنی گفتگو میں سیاسی بات کی اور اپنی فتح کو نام نہاد آپریشن سندور کے فوجیوں اور فالس فلیگ پہلگام آپریشن میں مارے جانے والے افراد کے نام کی تھی۔
آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق دوران کھیل کسی بھی متنازع معاملے یا سیاست پر بات نہیں کی جا سکتی۔ خلاف ورزی کرنے والے کو آئی سی سی قوانین کے مطابق سزا دی جا سکتی ہے۔
اب پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس حوالے سے قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور ذرائع نے بتایا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے بھارتی کپتان کے سیاسی بیان پر آئی سی سی سے شکایت کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ پر بھارتی کپتان کے خلاف شکایت کرنے کے لیے ہفتہ 20 ستمبر تک کی ڈیڈ لائن ہے۔
واضح رہے کہ میچ ریفری اینڈی کرافٹ کی جانب سے پاکستان ٹیم کے منیجر، کپتان اور ہیڈ کوچ سے معافی مانگنے کے بعد پی سی بی نے یو اے ای سے میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا۔


