(26 ستمبر 2025): ایشیا کپ کا 17 واں ایڈیشن متحدہ عرب امارات میں کھیلا جا رہا ہے تاہم یہ گزشتہ 16 ٹورنامنٹ سے منفرد ہے۔
ایشیا کپ کی تاریخ 41 سال پر محیط ہے۔ اس دوران 16 ایڈیشنز کھیلے گئے تاہم رواں 17 واں ایشیا کپ اپنی تاریخ میں سب سے منفرد ٹورنامنٹ ہے، جس میں کئی ایسی منفرد چیزیں ہوئی ہیں، جو اس سے پہلے اس ٹورنامنٹ میں کبھی نہیں ہوئیں۔
سب سے پہلا جو منفرد اس ٹورنامنٹ میں ہوا، وہ اس کا مکمل طور پر ہائبرڈ ماڈل کے تحت کسی نیوٹرل مقام پر کھیلا جانا ہے۔ ایشیا کپ 2025 کا میزبان بھارت ہے مگر یہ پورا ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلا جا رہا ہے۔
اس سے قبل 2023 میں پاکستان کی میزبانی میں کھیلا جانے والا ایشیا کپ بھی ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلا گیا تھا۔ مگر پاکستان کی سر زمین پر چار میچز منعقد ہوئے تھے اور باقی میچز سری لنکا میں کھیلے گئے تھے۔
ایشیا کپ 2025 کی دوسری انفرادیت ٹورنامنٹ میں پہلی بار 8 ٹیموں کی شرکت ہے۔ تین ٹیموں (پاکستان، سری لنکا اور بھارت) سے 1984 میں شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں اب تک زیادہ سے زیادہ 6 ٹیموں نے شرکت کی تھی۔ تاہم پہلی بار عمان اور ہانگ کانگ کو بھی ایونٹ میں شامل کیا گیا۔
رواں ایشین ٹورنامنٹ کی تیسری انفرادیت منفی نوعیت کی ہے، جو بھارتی کرکٹ ٹیم کی جانب سے پیدا کی گئی۔ بھارت اور پاکستان جاری ایشیا کپ میں دو بار مدمقابل آ چکے ہیں۔ اس سے قبل کرکٹ کی تاریخ میں جب بھی دو ٹیمیں میدان میں اتریں انہوں نے خیرسگالی کے طور پر ایک دوسرے سے ہاتھ ملائے۔
تاہم بھارتی ٹیم نے دونوں میچز میں پاکستانی کرکٹرز سے ہاتھ نہ ملا کر نہ صرف اسپورٹس مین اسپرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں، بلکہ کرکٹ کی تقریباً ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں ایک منفی روایت کو جنم دیا۔
بھارت کے اس تلخ رویہ سے نظریں ہٹائیں تو کرکٹ شائقین ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں روایتی حریفوں کو پہلی بار فائنل میچ میں ایک دوسرے کے مدمقابل دیکھیں گے۔
پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں 2007 میں اولین آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ اور 2017 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں مدمقابل آ چکی ہیں۔ ٹی 20 میں بھارت نے ٹرافی اٹھائی اور 2017 میں پاکستان پہلی بار چیمپئن بنا۔
ایشیا کپ کی پانچویں بڑی انفرادیت کسی بھی ٹورنامنٹ میں تین بار ہائی وولٹیج پاک بھارت ٹاکرا ہونا ہے۔ اس سے قبل کئی ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں دو بار تو مدمقابل آئی ہیں مگر پہلی بار شائقین کرکٹ ایک ہی ٹورنامنٹ میں اتوار کو تیسری بار انہیں ٹرافی کی جنگ کرتے دیکھیں گے۔
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔


