ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

بھنبھور: پاکستان میں‌ تہذیب کا ارتقاء

اشتہار

حیرت انگیز

عربوں کی سب سے تاریخی تعمیر بھنبھور کی جامع مسجد ہے۔ یہ عمارت شہر کے وسط میں واقع تھی۔ اس جگہ کی کھدائی میں اب تک تیرہ کتبے ملے ہیں۔ یہ کتبے پتھر کی سلوں پر خط کوفی میں کندہ ہیں۔

اتفاق سے دو کتبوں پر تاریخیں بھی درج ہیں۔ ایک پر ۱۰۹ھ (۷۲۷ء) اور دوسرے پر ۲۹۴ھ (۹۰۷ء)۔ پہلے سنِ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں نے وادیِ سندھ میں سب سے پہلی مسجد اسی مقام پر تعمیر کی تھی۔ مسجد کا نقشہ کوفہ اور واسط کی جامع مسجدوں (۶۷۰ اور ۷۰۲ء) سے مشابہ ہے۔ بھنبھور کی مسجد ایک چوکور عمارت تھی۔ ۱۲۲ فٹ لمبی اور ۱۲۰ فٹ چوڑی۔ اس کا صحن ہے ۷۵ فٹ لمبا اور ۵۸ فٹ چوڑا تھا۔ اور اس پر پتھر کی اینٹیں بچھی ہوئی تھیں۔ مسجد کی تین سمتوں میں چھوٹے چھوٹے حجرے اور دالان تھے۔ ان کی چھتوں کو لکڑی کے دو رویہ کھمبوں پر قائم کیا گیا تھا۔ مغربی سمت میں کافی کشادہ عبادت گاہ تھی۔ اس کی چھت کو گیارہ گیارہ کی قطار میں ۳۳ کھمبے سنبھالے ہوئے تھے۔ کھمبوں کے جو کڑے ملے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ ان پر منبت کاری کی گئی ہے۔ کھمبے چوکور پتھروں پر رکھے ہوئے تھے اور ان پتھروں پر ابھرواں نقش و نگار بنے تھے۔ مگر وہ عربوں سے قبل کی کسی عمارت میں استعمال ہو چکے تھے۔ صحن کے شمال مشرقی گوشے میں وضو کے لئے ایک چبوترہ اور پانی کے اخراج کے لئے پتھر کی ایک پکی نالی بنی تھی۔ مسجد میں محراب نہیں تھی۔ محراب کی عدم موجودگی بھی مسجد کی قدامت کی وزنی دلیل ہے کیونکہ محراب کا رواج بازنطینی اثر کے تحت خلیفہ ولید اوّل کے عہد میں (۷۰۹ء) مدینہ میں شروع ہوا تھا۔ مسجد میں ۹۰۷ء کا جو کتبہ ملا ہے وہ خط کوفی میں خطاطی کا شاہکار ہے۔

مسجد کے شمال میں ایک اور شان دار عمارت کے آثار ملے ہیں۔ یہ عمارت شاید کسی سرکاری دفتر یا مدرسے کی تھی۔ اس میں دو رویہ کمرے اور غلام گردشیں تھیں۔ گھریلو استعمال کی بہت ہی کم چیزیں یہاں سے نکلی ہیں۔ حصار کے شمال مشرقی گوشے میں پتھر کی بنی ہوئی ایک اور نہایت پرشکوہ عمارت کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ یہ عمارت نیم دائرے میں تھی اور اس کی دیواریں ٹھوس پتھر کی تھیں۔ فرش پر چونے کا پلستر کیا ہوا تھا۔ عمارت میں ایک بڑا سا کنواں بھی تھا اور اس کا ایک پھاٹک میٹھے پانی کی جھیل کی طرف کھلتا تھا۔ اس جگہ سے عربوں کی اقامت کے بالکل ابتدائی دنوں کی چیزیں نکلی ہیں۔

بھنبھور میں اموی عہد کے مٹی کے برتن بھی ملے ہیں۔ ان پر عربی حروف خط کوفی میں ابھارے گئے تھے یا پھول پتیاں اور اقلیدسی شکلیں بنی تھیں۔ ان ظروف میں ایک چھوٹا سا پیالہ ہے جس میں دو طرف دستے لگے ہیں اور خط کوفی میں ایک شعر لکھا ہے۔ بہت سے مٹکے ملے ہیں۔ جن کے نیلے اور سبز روغن آج بھی شیشے کی طرح جھلکتے ہیں۔ ان پر انگور کی بیلوں اور پھول پتیوں سے بہت دل کش نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔ البتہ عباسی عہد کے برتنوں پر ایرانی بالخصوص نیشا پوری اثرات غالب ہیں۔

(کتاب پاکستان میں‌ تہذیب کا ارتقاء سے اقتباس اس کے مصنّف نامور ترقی پسند دانش ور، صحافی اور محقق سبط حسن ہیں)

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں