The news is by your side.

Advertisement

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کی نجکاری کی سفارش

نیویارک : آئی ایم ایف کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کی نجکاری کی سفارش کردی، بینک نے نجکاری کیلئے تکنیکی مشاورت دینے کی پیشکش کی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق ملکی معشیت پر بڑھتے بوجھ کو کم کرنےکیلئےنقصان میں چلانے والے اداروں کی نجکاری ضروری ہے جبکہ اے ڈی بی نے دونوں اداروں کی نجکاری کیلئے تکنیکی سپورٹ مزید بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔

وزارت نجکاری نے اے ڈی بی کو بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کی صورت میں اسٹیل ملز کی زمین حکومت کے پاس اور مشینری اور پلانٹ کو لیز کیا جائے گا۔

خیال رہے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے بھی اپنی پوسٹ پروگرام میں رپورٹ میں نقصان میں چلنے والے اداروں کی فوری نجکاری پرزور دیا تھا۔

گذشتہ روز  وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ڈائریکٹر جنرل وارنر لی پیچ اور سنٹرل ویسٹ ایشیئن ڈیپارٹمنٹ کے وفد سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دانیال عزیز نے  پاکستان اسٹیل ملز سمیت خسارہ میں چلنے والے دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

ڈائریکٹر جنرل اے ڈی بی نے  پاکستان اسٹیل ملز اور قومی ایئرلائن پی آئی اے سمیت خسارہ میں چلنے والے دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے قومی ایئرلائنز پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کا پلان منظور کرلیا تھا ۔وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کے پلان کے بارے میں بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو نجکاری کیلئے دو حصوں میں کور اور نان کور بزنس میں تقسیم کیا جائے گا، کور بزنس کے49 فیصد حصص انتظامی قبضے کے ساتھ فروخت کئے جائیں گے جبکہ قومی ایئر لائن کے ذمے 300ارب روپے سے زائد کے بقایا جات غیر کور کمپنی کو منتقل کئے جائیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کو 30 سال لیز پر دیا جائے گا جبکہ 180 ارب روپے سے زائد کے بقایا جات بھی حکومت اپنے کھاتے میں رکھے گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں