ہفتہ, فروری 7, 2026
اشتہار

پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلے گئے 5 بڑے فائنل تاریخ کی نظر میں

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (28 ستمبر 2025): روایتی حریف اب تک پانچ بڑے فائنل میں مدمقابل آ چکے ہیں اور ان میں پاکستان ٹیم کو بھارت پر سبقت حاصل ہے۔

ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پہلی بار فائنل میچ میں ٹکرا رہی ہیں۔ ہائی وولٹیج مقابلہ آج شام ساڑھے 7 بجے کھیلا جائے گا۔ تاہم دونوں روایتی حریف اس سے قبل پانچ بڑے ٹورنامنٹس میں ایک دوسرے کے خلاف فائنل میں مدمقابل آ چکے ہیں اور گرین شرٹس نے مین ان بلیو سے زیادہ مرتبہ ٹرافی اٹھائی ہے۔

پاکستان اور بھارت پہلی بار جس بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔ ان میں 1985 میں کھیلا گیا ورلڈ چیمپئن شپ آف کرکٹ کا فائنل ہے۔ آسٹریلیا میں کھیلے جانے والے اس ٹورنامنٹ میں اس وقت کی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی سات ٹیموں نے شرکت کی۔ بھارت نے 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی اور سنیل گواسکر نے ٹرافی اٹھائی۔
اس کے ایک سال بعد شارجہ کے میدانوں میں آسٹریلیشیا کپ کھیلا گیا۔ اس ٹورنامنٹ میں براعظم آسٹریلیا اور ایشیا کی پانچ کرکٹ ٹیموں پاکستان، بھارت، سری لنکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے شرکت کی۔ یہ ٹورنامنٹ جاوید میانداد کے تاریخی چھکے کی وجہ سے آج بھی شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔

بھارت کی جانب سے 246 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد آخری گیند پر چھکا مار کر ایک وکٹ سے یہ فائنل جیتا اور پاکستان نے کرکٹ کی پہلی ٹرافی حاصل کی۔

1994 میں کھیلے گئے آسٹریلیشیا کپ میں پاکستان اور بھارت ایک بار پھر فائنل میچ میں مدمقابل تھے۔ گرین شرٹس نے 250 رنز اسکور کیے اور بھارت کو صرف 211 رنز پر ڈھیر کر کے پھر ٹرافی اٹھائی۔

اس کے بعد روایتی حریف 13 سال کے طویل عرصہ بعد 2007 کے اولین ٹی 20 ورلڈ کپ میں فائنل میں سامنے آئے۔ جنوبی افریقہ کی سر زمین پر کھیلے گئے اس ٹورنامنٹ میں بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو صرف پانچ رنز سے شکست دی۔

10 سال بعد انگلینڈ میں کھیلی گئی چیمپئنز ٹرافی میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر میدان میں تھیں۔ نوجوان اوپنر فخر زمان کی پہلی سنچری اور محمد عامر کے غیر معمولی بولنگ اسپیل نے پاکستان کو 180 رنز کے بھاری مارجن سے فتح دلائی اور سرفراز احمد نے لارڈز کے تاریخی میدان میں ملک کے لیے پہلی بار چیمپئنز ٹرافی اٹھائی۔

نوٹ: ان میں 80 کی دہائی اور 90 کی دہائی کے اوائل میں شارجہ میں کھیلے گئے ٹورنامنٹس کے فائنل شامل نہیں ہیں، جو زیادہ تر پاکستان نے ہی جیتے۔

+ posts

ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اہم ترین

ریحان خان
ریحان خان
ریحان خان کو کوچہٌ صحافت میں 25 سال ہوچکے ہیں اور ا ن دنوں اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں۔ملکی سیاست، معاشرتی مسائل اور اسپورٹس پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ قارئین اپنی رائے اور تجاویز کے لیے ای میل [email protected] پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں