The news is by your side.

Advertisement

ہم اسٹیبلشمنٹ کے نہیں پاکستان کے ساتھ ہیں:آصف علی زرداری

میاں صاحب کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آٓصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کہتے کچھ ہیں کرتے ہیں اسی سبب دوریاں پیدا ہوئیں، ہم اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں آج صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر نے سابق وزیر اعظم نوازشریف کے بیان پر کہ ’’ آصف زرداری، مشرف کے معاملے پر میرے پاس آئے‘‘ تبصرہ کرتے ہوئے کہا بد قسمتی سے میاں صاحب ڈبل اسپیڈ دکھاتے ہیں، کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، ہمارا کسی سے کوئی تناؤ نہیں ہے ہم ملک کےساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سیاسی محاذآرائی سےبچنےکے لیے مسلم لیگ ن کو پنجاب میں فتح یاب ہونے دیا، آج بھی ہماری پارٹی اس فیصلے کے زیرِاثرہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگروہ قدم رکھتے توپنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت نہیں بن پاتی۔ آصف زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو صدارت سے ایسے ہٹایا جیسے دودھ سے مکھی ،پرویز مشرف کو ہٹانا ہمارے لئے بہت ضروری تھا۔

 اللہ نہ کرے ایسا وقت کسی پرنہ آئے،نوازشریف

پیپلز پارٹی کے شریک صدر کا کہنا تھا کہ اگر طاہرالقادری کندھا نہ دیتے تو عمران بھی دھرنا نہیں دے سکتا تھا۔دھرنے کی سیاست آگے لے کر نہیں جاتی ۔میاں صاحب ہمیشہ کہتے کچھ اور کرتےکچھ ہیں اسی لئے دوریاں ہوئیں، سیاست میں لوگوں کا جارحانہ رویہ مناسب نہیں ،سیاست میں پرتشدد رویہ سے عوام پر اثر پڑتا ہے۔

نگران وزیر اعظم کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کےلئے ہم نے دو نام دیئے تھے، ان میں سے ایک بزنس مین اوردوسراسابق سیکریٹری ہے۔

سابق وزیراعظم کے خلاف چلنے والے کیسز پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کو کٹہرے میں میاں صاحب کی وجہ سے کھڑا ہونا پڑرہاہے،کسی کی بہن یا بیٹی کو عدالت کے کٹہرے میں نہیں دیکھنا چاہتا۔میاں صاحب بتائیں بھٹوکی بیٹی کوکٹہرےمیں کس نےکھڑاکیاتھا، اب توٹیپ بھی آگئی ہےکس طرح ججوں کےساتھ آپ ملےہوئےتھے۔ انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن بنائیں اور 1947 سے شروع کریں ۔1947سے بتائیں آپ آج کیا ہیں اور اپنے ساتھ لائے کیا تھے؟۔

بین الاقوامی معاملات پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل نظر آرہے ،جنگ چل رہی ہے ساتھ ساتھ سیلاب بھی آرہا ہے،افغانستان میں امریکا نے نئےاڈےبنالیےہیں،بھارت بھی مداخلت کررہاہے۔

آئی جےآئی کا شوق جسے ہے بنانے دیں ، ہم آئی جے آئی بنانے کےلئے پارٹی نہیں بنیں گے ۔امید یہی ہے کہ الیکشن آراو کے نہیں ہوں گے ۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے ان کا کہن تھا کہ صوبہ بھی بنے اور انشااللہ سب اسے بھی ووٹ دیں گے۔وقت سب مرہم بھردیتا ہے ، انشااللہ جنوبی پنجاب صوبہ بھی بنے گا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں