The news is by your side.

Advertisement

آصف زرداری اور بلاول بھٹو کا ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلان

لاڑکانہ : پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق چیئرمین آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ میں نواب شاہ اور بلاول بھٹو لاڑکانی سے ضمنی الیکشن لڑ کر اسی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں گے اور پارلیمانی سیاست کا آغاز کریں۔

سابق صدرآصف علی زرداری نے یہ اعلان محترمہ بے نظیر بھٹو کی نویں برسی کے موقع پر عوام اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں سب سے پہلے سرپرائزکا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ میں اور بلاول بھٹو اب ضمنی الیکشن لڑ کر اب پارلیمنٹ میں جائیں گے اور پارلیمانی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں نواب شاہ سے اپنی بہن فریال تالپورکی سیٹ پر ضمنی الیکشن لروں گا جب کہ بلاول لاڑکانہ سے ایاز سومرو کی سیٹ پر ضمنی الیکشن لڑیں گے اور پارلیمنٹ میں جا کراپنا کردار ادا کریں گے۔

 سابق صدر نے وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اور بلاول آپ کرسی چھیننے کے لیے نہیں آرہے ہیں بلکہ ہم آپ کی کمزوریوں کی نشاندہی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میاں صاحب میں نے جمہوریت کو مضبوط کیا تھا تمام اختیارات پارلیمنٹ اور صوبوں کو منتقل کیا گیا تھا لیکن آپ نے میری دی ہوئی جمہوریت کا ستیا ناس کردیا ہے میں اسے درست کرنے آرہا ہوں۔

سابق صدر نے اراکین پارلیمان کو ہدایت کی کہ لوگوں کے درمیان جائیں اور ان کے مسائل حل کریں کیوں کہ پیپلزپارٹی عوامی جماعت ہے اب زمانہ تبدیل ہو چکا ہے ہمیں بہت کام کرنا ہے۔

جلسے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ کچھ لوگ پیدا ہی زندہ رہنے کے لیے ہوتے ہیں ایسے لوگوں کا فلسفہ اور نظریہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے ایسے لوگ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں ، پاکستان میں یہ شرف بھٹو خاندان کو حاصل ہے اسی لیے ہم اپنے شہداء کی یادیں مناتے ہیں۔

انہوں نے کہا محض 24 سال کی عمر میں بے نظیر بھٹو نے اپنے بابا کی رہائی کے لیے تحریک چلائی اور سکھر جیل میں قید تنہائی جھیلی، ان کے والد کو پھانسی چڑھایا گیا، ان کے بھائیوں کو قتل کیا گیا، ان کی ماں پر لاٹھیاں چلائی گئیں ان کے خاوند کو 11 سال پابند سلاسل رکھا گیا لیکن اس نہتی لڑکی نے گولی بارود والوں سے دلیرانہ مقابلہ کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جلاوطنی جھیلنے والی اس خاتون نے ہار نہیں مانی اور اپنے تیس سالہ سیاسی جدو جہد میں محض پانچ سال اقتدار میں رہیں اور بقیہ عرصہ آمروں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے گزاری یہاں تک کہ جام شہادت نوش کی، ایسی جدوجہد کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ اتنی طویل جدوجہد کے بعد بھی میں دیکھتا ہوں کہ ضیاء کی باقیات بھی موجود ہیں اور مذہبی انتہا پسندی بھی وہیں کھڑی ہے، ہمارے فوجی جوان، بچے، خواتین اور بزرگ اب بھی قربانیاں دے رہے ہیں، اس لیے آج بھی بے نظیر کی بھی ضرورت ہے جیسے پہلے تھی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آپ لوگوں نے اب جدوجہد کی باگ دوڑ میرے ہاتھ میں دی ہے، مجھے اندازہ ہے کہ پارٹی مشکلات کا شکار ہے، ملک نازک حالت گذر رہا ہے ، دہشت گردی جاری ہے، ایسی صورت حال میں مجھے پارٹی کو بھی متحرک کرنا ہے اور پاکستان کو ترقی پسند، خوشحال اور لبرل بنانا ہے جو میرے نانا کا خواب ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے چار مطالبات رکھے تھے لیکن حکومت وقت کو میری بات سمجھ نہیں آئی کیوں کہ انہیں تھوڑی دیر سے بات سمجھ میں آتی ہے جب وقت گذرجاتا ہے، جمہوری احتساب ہوا نہ وزیر داخلہ تبدیل ہوئے اب دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ کیا فیصلہ کرتی ہے، امید ہے کہ لاڈلوں کو بچایا نہیں جائے گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا ہمیں دہشت گرد قرار دینے پر تلی ہوئی ہے اور نواز حکومت اپنے ذاتی تعلقات استوار کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور اپنی کابینہ میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو جگہ دی ہوئی ہے، آپ کی حکومت ناکام ہو چکی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تو کئی اسکینڈلز ہیں اصغر خان کیس ہو، حدیبیہ پیپرز ملز ہو، سستی روٹی ہو، یلو کیب اسکیم ہو یا پھر پاناما کیس ہو، آپ کا دامن صاف نہیں پہلے آپ کو کلین چٹ ملتی رہی اور ہمیں پھانسی، لیکن اب پاناما کیس میں آپ بچیں گے نہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارے اداروں کی تاریخ کوئی اتنی اچھی نہیں ہے ہم اپنے پانامہ بل پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے اور اس بل کو منظور کروا کے عدلیہ جائیں گے، عدلیہ کا سوموٹو ایکشن صرف پیپلز پارٹی کے لیے ہوتا ہے اور کوئی سپریم کورٹ پر حملہ بھی کرے تو اسے کچھ نہیں کہا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے بڑوں کا ادب کرنا سیکھایا ہے لیکن اگر ایک وزیر اعلیٰ طالبان سے کہے کہ ہمارے مقاصد یکساں ہیں ہم پر حملے نہ کریں، آپ چھوٹے صوبوں کا حق چھین لیں، ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائیں، پینشن نہ دیں، پرائیوٹائزیشن کے نام پر سرکاری ادارے اپنے دوستوں کو فروخت کر دیں، مودی کشمیریوں کا خون بہائیں اور آپ اس سے دوستی جاری رکھیں تو میں چپ نہیں رہوں گا، میں لڑوں گا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ذوالفقار بھٹو کا وارث ہوں میں بے نظیر کا بیٹا ہوں ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اگر آپ نے ساتھ دیا تو میں دلاؤں گا مزدور کو اجرت، اقلیتوں کو تحفظ، مریضوں کو علاج، اور ملک کو ترقی دوں گا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ چار مطالبات منوانے کے لیے پورے ملک کا دورہ کروں گا ہر صوبے میں، شہر شہر، گاؤں گاؤں، بستی بستی آرہا ہوں، سندھ کے لوگ اپنی بیٹی کہ شہادت کا بدلہ لیں گے اور پنجاب کے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہوں گے اور ملک بھر میں سیاسی مارچ کروں گا۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کی نویں برسی کے سلسلے میں خصوصی تقریب اور ایک بڑا عوامی جلسہ عام گڑھی خدا بخش میں جاری ہے، جلسے سے سابق صدر آصف علی زرداری خطاب کر چکے ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا خطاب جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی نویں برسی کو شایان شان طریقے سے منانے کے لیے گڑھی خدا بخش میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، دن بھر ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والوں قافلوں نے مزار پر حاضری دی اور فاتحۃ خوانی کی۔

جب کہ آج صبح ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کے شعراء نے بھٹو خاندان کی قربانیوں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی ولولہ انگیز قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔

اس کے علاوہ ایک بڑے عوامی جلسے کے ذریعے پیپلزپارٹی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی جس کے لیے بڑا پینڈال سجادیا گیا ہے جس میں عوام کا جم غفیر اپنے قائدی کی تقاریر کی سننے کے لیے موجود ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں