صادق آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری نے بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تو ڈیڑھ سال ہوا ہے جیل مردوں کی طرح کاٹو عورتوں کی طرح کیوں رو رہے ہو۔
صادق آباد میں پارٹی ورکزر سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے بندوق کی نوک پر رکھنے کی دھمکی دی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی پیدائش پر اذان کے بعد گولیوں کی آوازیں ہی سنی تھیں، جیل میں قید لیڈر اب بہانے ڈھونڈ رہا ہے، کسی نے اتنی جیل نہیں کاٹی جتنی میں نے کاٹی ہے۔
بی بی جیسی سوچ والا لیڈر نظر نہیں آتا، انہوں نے بھٹو سےسیاست سیکھی ہم نے ان سے سیکھی، بی بی کو بہت سے دوست ممالک نے کہا کہ آپ پاکستان واپس نہ جائیں۔
پہلے حملے کے بعد بی بی نے کہا کہ میں نے عوام سے وعدہ کیا پاکستان جاؤں گی، بی بی کے نصیب میں شہادت تھی ،میرے گمان میں بھی نہیں تھاکہ ایسا ہوگا۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھیں میں نے منع کیا تھا کہ ضرورت نہیں جانے کی، وہ نہ ڈرنے والی بھٹو کی بیٹی تھی۔
صدرآصف زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب ہم نے سوات میں جھنڈا لگایا مجھے پتہ تھا کہ پیچھے بیٹھا بنیا ہمارے بچوں کو گمراہ کررہا تھا، ہم پاکستان کو ٹوٹنے نہیں دیں گے اسےتوڑنے والوں کو ہماری لاش سے گزرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب میری بہن کو رات کے اندھیرے میں پکڑا گیا تھا اس وقت یاد نہیں آیا، بینظیر بھٹو نے 24 سال کی عمر میں جیل کاٹی تھی۔
بی بی شہید نے زندگی میں کوئی قصور نہیں کیا اسے بھی 5سال سکھر جیل میں بند کیا گیا،ایک نہتی لڑکی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگئی، ذوالفقاربھٹو کو بی بی کے کام اچھے لگتے تھے۔
پیپلز پارٹی کا ایک ورکر ممتاز چانگ بھی ایم پی اے بن سکتا ہے، جتنا آپ جھکیں گے اتنی عزت ملے گی، جب میں پیدا ہوا تو آذان کے بعد گولیاں سنی ان سے نہ ڈراؤ۔
پنجاب کے کچے میں میڈیکل یونیورسٹی سندھ حکومت بنائے گی،فنڈز کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سےبات کروں گا، میاں صاحب سے بھی کہوں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم اور مخدوم کو گورنر بنایا، ہم سرائیکیوں کی عزت کرتے ہیں پرانے بلوچ سرائیکی بولتے ہیں میری مادری زبان سرائیکی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


