The news is by your side.

Advertisement

پارک لین اور میگا منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری کے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد : پارک لین اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں احتساب عدالت نے آصف زرداری کے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، جو کل سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پارک لین اور میگا منی لانڈرنگ کیس آصف علی زرداری کی ریفرنس خارج کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ، احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر ملزمان کی حاضری لگائی گئی ، آصف زرداری کی ایک روز کی عدالتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پیش کی۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا ٹھٹھہ واٹر سپلائی ریفرنس سے آغاز کرنا چاہوں گا، چیئرمین نیب کےپاس ضمنی ریفرنس دائرکرنےکااختیار ہی نہیں، ادھورا چالان جمع کراکرپھرمکمل چالان جمع کرایا جا سکتا ہے، احتساب عدالت اس ریفرنس کو خارج کرے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے2ماہ کا ٹائم فریم دیا لیکن ریفرنس دائر نہ کیا جا سکا، مجھے تھوڑا وقت دیں میں تفصیل سے بات کروں گا، آج کل صبح اٹھنا مشکل ہوتا ہے،رات دیرتک اسمبلی سیشن چلتے ہیں، کبھی سینیٹ سیشن ، کبھی جوائنٹ سیشن چل رہا ہوتا ہے، ریفرنس سپریم کورٹ کی ہدایت کے خلاف ہے اور ضمنی ریفرنس غیرقانونی اور نیب کی بدنیتی پرمبنی ہے ، خارج کیاجائے۔

آصف علی زرداری کے وکیل نے استدعا کی کہ ٹھٹھہ واٹرسپلائی ، میگا منی لانڈرنگ ریفرنس خارج اورآصف زرداری کوبری کیا جائے۔

احتساب عدالت میں فاروق ایچ نائیک کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب نےآصف زرداری کےریفرنس خارج کرنےکی درخواست کی مخالفت کر دی، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر نے کہا ضمنی ریفرنس دائر کرنا غیر قانونی نہیں ہے، نیب ضمنی ریفرنس دائر کر سکتا ہے ، کسی قانون میں نہیں لکھا کہ ضمنی ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا، فاروق ایچ نائیک نےایک قانون کاحوالہ نہیں دیا جس میں ایسا لکھا ہو۔

سردار مظفر کی جانب سے نیب آرڈیننس کےسیکشن 16کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سیکشن 16کےتحت کیس کسی دوسری جگہ منتقل بھی ہوسکتا ہے، پاناما کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑا واضح ہے، سپریم کورٹ کاحکم ہے نیب ضمنی ریفرنس دائر کر سکتا ہے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کے دلائل مکمل ہونے پر آصف زرداری کے ریفرنسز خارج کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ، احتساب عدالت کی جانب سے محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں