site
stats
پاکستان

حسن اورحسین یہاں کے شہری نہیں، ان پرقوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا،آصف کرمانی

اسلام آباد : آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے جے آئی ٹی کو مضبوط کیا، حسن اورحسین یہاں کے شہری نہیں، ان پر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا لیکن پھر بھی احتساب کی خاطر اسثنی نہیں لی۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما آصف کرمانی نے کہا کہ جے آئی ٹی سے متعلق کچھ بے بنیاد باتیں کی گئی ہیں، نوازشریف حکومت نے جے آئی ٹی کومضبوط بنایا ہے، دو ممبران پر تحفظات کے باوجود ہم نے جے آئی ٹی سے تعاون کیا ہے۔

آصف کرمانی نے کہا کہ حسن اورحسین یہاں کے شہری نہیں، ان پر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا، ہم نے حسین اور حسن کو حاصل استثنیٰ بھی نہیں لیا، مشرف دور ہمارا بے رحمانہ احتساب کیا گیا،کچھ نہیں نکلا، جے آئی ٹی کو جو بھی تعاون درکار ہوگا وہ پیش کریں گے۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا ہے جو ن لیگ کرے گی وہ ہم بھی کریں گے، ہم تو چار سال سے کہہ رہے ہیں ن لیگ جو کررہی ہے آپ بھی وہی کریں، ن لیگ چاروں صوبوں کی ترقی چاہتی ہے آپ بھی اپنا حصہ ڈالیں، ن لیگ دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، نواز شریف نے کراچی اور بلوچستان کا امن لوٹایا ہے جبکہ عمران خان دہشت گردوں کاپشاورمیں دفترکھلوانا چاہتے تھے۔


مزید پڑھیں : ہم پر الزام لگانے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، آصف کرمانی


انھوں نے مزید کہا کہ نوازشریف نے خود اپنے خاندان کواحتساب کےلئے پیش کیا، نوازشریف ترقی اورخوشحالی کاکام کررہے ہیں کاش عمران خان بھی کرتے، عدالتوں سے مطالبہ ہے عمران خان کے خلاف جے آئی ٹی بنائی جائے، عمران خان ابھی تک اپنی منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکام ہوئے ہیں، عمران خان الزامات لگاتے ہیں،عدالتوں کا سامنا نہیں کرتے۔

آصف کرمانی نے عمران خان کے خلاف بھی جے آئی ٹی بنانے کامطالبہ کردیا اور کہا کہ عمران خان تو عدالتوں کے بھگوڑے ہیں، عمران خان نے عدالتوں پر بھی الزامات لگائے ہیں، مرضی کے فیصلے نہ ملنے پرعمران خان فساد کی دھمکیاں دیتے ہیں، کے پی کے میں احتساب کمیشن کے لئے 65کروڑ کا بجٹ تھا، بجٹ تو استعمال کرلیا گیا مگر کسی کا احتساب نہیں کیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top