جو تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ پاناما اور جیلوں سے ڈرتے ہیں: زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

جو تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ پاناما اور جیلوں سے ڈرتے ہیں: زرداری

دادو: پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جو تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ پاناما اور جیلوں سے ڈرتے ہیں۔ ہم پاکستان کی جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے سنہ 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے خلاف یوم سیاہ منایا۔

اس حوالے سے منعقدہ تقریب میں سابق صدر آصف علی زرداری نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ آج کے دن جمہوریت پر شب خون مارا گیا تھا۔ اس وقت شب خون مارا گیا جب بھٹو دنیا بھر میں پاکستان کا بول بالا کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کی بقا کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ ہم وہ کام نہیں کریں گے جو صرف 5 سال کے لیے ہوگا۔ یورپ اب امیر ہوا ہے پہلے ہمارا خطہ امیر ہوتا تھا، وہ دور واپس آئے گا۔ آنے والی یوتھ کو لیڈر شپ دے رہے ہیں۔

اپنی بیٹی آصفہ زرداری سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ آصفہ سے جھگڑا چل رہا ہے، وہ کہتی ہے لیاری سے لڑوں گی میں نواب شاہ سے لڑنے کا کہتا ہوں۔

طاقت ہم نے منتقل کی

سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ پاناما اور جیلوں سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر طاقت منتقل نہ کرتے تو نواز شریف وزیر اعظم نہیں صدر ہوتے، صدر کے خلاف کوئی ریفرنس اور کیس داخل نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لیپ ٹاپ یا کسی اور بہانے الیکشن جیت بھی جائیں تب بھی پیپلز پارٹی کامیاب رہے گی۔

آصف زرداری نے مزید کہا کہ یہ لوگ سی پیک کے منصوبے کو چوری کر کے دوسری طرف لے گئے ہیں۔ گیم چینجر کہنے والے پہلے سمجھ لیں گیم چینجر کہتے کسے ہیں۔ سی پیک گیم چینجر نہیں خطے کا چینجر ہے۔


Comments

comments

یہ بھی پڑھیں