The news is by your side.

Advertisement

ہم نے پہلے بھی اس قسم کے رویوں کا سامنا کیا ہے، آئندہ بھی کریں گے: آصف زرداری

’بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘

اسلام آباد: سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کا کہنا ہے کہ آج ہمارے اسپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے، ہم نے پہلے بھی اس قسم کے رویوں کا سامنا کیا ہے آئندہ بھی کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد سابق صدر آصف زرداری نے پریس کانفرنس کی۔ اپنی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں بھارت نے جارحیت کی تو سب متحد ہوں گے۔

بھارتی جارحیت پر پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے: آصف زرداری

انہوں نے کہا کہ جب میں صدر تھا اس وقت بھی اسی قسم کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت نابالغ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی، بیک سیٹ ڈرائیور سیاست نہیں سمجھتا۔ ایران ہمارا پڑوسی ملک ہے انہیں شک ہے تو مشترکہ تحقیقات ہونی چاہیئے۔

سابق صدر نے کہا کہ بھارت جارحیت کی جرات کرے گا تو منہ توڑ جواب دیں گے، ’ہم سب پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘۔

انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا تھا، آج بھی کشمیر کے حوالے سے قرارداد آئی تو ساتھ دیں گے۔ ’ہم صوبوں کے حقوق کے ضرور جنگ لڑیں گے‘۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ سعودی بھائیوں کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہیں، سعودی بھائیوں کے دورے میں اپوزیشن کو دعوت نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے اسپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے، ہم نے پہلے بھی اس قسم کے رویوں کا سامنا کیا ہے آئندہ بھی کریں گے، نیب کا سامنا کریں گے۔ ’جیل میرا دوسرا گھر ہے‘۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں طاقت کی پیاس نہیں صرف مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، شہباز شریف کو ضمانت ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ آغا سراج درانی کوئی چھپ کر تو نہیں بیٹھے تھے، کراچی سے ہی گرفتار کرلیتے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے جج تھے، میں انہیں نوابشاہ سے نہیں لایا تھا۔ ’ان کی تعیناتی پر پشیمانی ہے‘۔

خیال رہے کہ آج نیب کراچی نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا ہے، آغاسراج درانی پر سندھ سیکریٹریٹ کے فنڈز میں خرد برد کا بھی الزام ہے۔

گرفتاری کے بعد آغا سراج کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ان کا 3روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر کے نیب کے حوالے کردیا گیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں