The news is by your side.

Advertisement

مقبوضہ کشمیر: آٹھ سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل، وادی میں شدید مظاہرے، فنکاروں‌ کا احتجاج

دہلی: آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس کے چار افسروں نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا۔ واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ملزمان کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کر زور پکڑ گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کشمیریوں پر مظالم سے باز نہ آیا۔ فائرنگ اور بیلٹ گنوں کے استعمال کا سلسلہ تھما نہ تھا کہ آبروریزی کا افسوس ناک سلسلہ شروع ہوگیا۔

حالیہ واقعے میں بھارتی پولیس اہلکاروں نے آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کو زیادتی کے بعد تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کردیا اور لاش کو جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا، واقعے کے خلاف بھارت میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

آصفہ بانو کے قتل میں بھارتی پولیس کے چار اہلکاروں سمیت کئی ہندو ملوث تھے، آٹھ سالہ بچی کو مندر میں قید رکھا گیا مارنے سے پہلے وحیشانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جب آصفہ دس جنوری کو گم ہوئی تو اس وقت اس کے والدین جموں شہر سے 72 کلو میٹر مشرق وسطیٰ میں مقیم تھے، آصفہ کی والدہ نسیمہ کا کہنا ہے کہ اس دن دوپہر کو آصفہ جنگل سے گھوڑے لانے گئی تھی گھوڑے واپس آگئے لیکن آصفہ ان کے ساتھ نہیں تھی۔

بعدازاں نسیمہ نے اپنے شوہر کو اطلاع دی تو وہ کچھ پڑوسیوں کو ساتھ لے کر آصفہ کی تلاش میں نکلے رات بھر وہ ٹارچوں لالٹینوں کی روشنی میں جنگل میں دور دور تک ڈھونڈتے رہے لیکن آصفہ کا پتہ نہ چل سکا۔

سترہ جنوری کی صبح آصفہ کے والد اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ہمسایہ ان کی طرف بھاگتا ہوا آیا اور خبر دی کہ ان کی آٹھ سالہ بیٹی آصفہ بانو کی لاش گھر سے چند سو گز دور جھاڑیوں میں مل گئی ہے۔

سانحے کے بعد جموں کے ہندوؤں اور کشمیر کے مسلمانوں کے درمیان حائل خلیج مزید گہری ہوگئی ہے جبکہ پولیس نے آصفہ کے قتل کے شبے میں آٹھ افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں ایک سرکاری ملازم، چار پولیس اہلکار اور ایک نوجوان شامل ہیں۔

 آصفہ بانو کے بہیمانہ قتل پر بالی وڈ اسٹارز بھی بول پڑے، اداکار سنجے دت کا کہنا ہے کہ ہم بطور معاشرہ ناکام ہوچکے ہیں، ایک باپ ہونے کی حیثیت سے میں بہت غصے میں ہوں، میری ہمدردیاں آصفہ کے والدین کے ساتھ ہیں، آصفہ کے والدین کو انصاف فراہم کیا جائے۔

 اداکارہ انوشکا شرما نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ  کیا ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں بچیوں کے ساتھ ایسا گھناؤنا عمل کیا جاتا ہے، ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں