The news is by your side.

پاکستان ٹیلی وژن اور اسلم اظہر

ٹیلی وژن اور براڈ کاسٹنگ کے شعبے میں اسلم اظہر کو لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ وہ پاکستان میں ٹیلی وژن کے بانی اور اس کے مختلف شعبہ جات میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور اس میڈیم میں اپنی فنی مہارتوں کا شان دار مظاہرہ کرنے والوں میں سے ایک تھے۔

فنونِ لطیفہ اور پرفارمنگ آرٹ کے دلدادہ اسلم اظہر نے پی ٹی وی کے لیے معیاری اور مثالی کام کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی جانب سے ستارۂ پاکستان اور تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

اسلم اظہر 1932ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کو علم و فنون کی دنیا میں اے ڈی اظہر کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور وہ ایک ادیب، شاعر اور بیدار مغز شخص تھے۔ اردو، انگریزی، فارسی، عربی، صَرف و نحو کے ماہر تھے۔ یوں علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھنے والے اسلم اظہر بھی شروع ہی سے تھیٹر اور فنون میں دل چسپی لینے لگے تھے۔ وہ ذہین تھے اور اچھّے طالبِ علم بھی ثابت ہوئے۔

اسلم اظہر کا زرخیز اور تخلیقی ذہن تھیٹر جیسے اس وقت کے مقبول میڈیم کے ساتھ ہندوستان میں فلم سازی اور اس کی تیکنیک میں بھی دل چسپی لے رہا تھا، لیکن وہ قانون کے طالبِ علم تھے۔ انھوں نے 1954ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے اس مضمون میں ڈگری حاصل کی۔ وہ تعلیم کے حصول کے لیے بیرونِ ملک بھی مقیم رہے۔ قانون کی ڈگری لینے کے بعد نوکری کے سلسلے میں کچھ عرصہ چٹاگانگ میں گزرا، لیکن دل نہ لگا اور 1960ء میں کراچی چلے گئے۔

کراچی میں اس زمانے میں محکمۂ اطلاعات کے لیے دستاویزی فلمیں بنائی جارہی تھیں۔ اسلم اظہر تھیٹر پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے داد و تحسین سمیٹ چکے تھے اور ریڈیو سے بھی وابستہ رہے تھے، یہی نہیں‌ بلکہ فلم سازی کا بھی شوق تھا۔ انھیں محکمۂ اطلاعات کے لیے کام کرنے کا موقع مل گیا۔ اسی عرصے میں انھوں نے اپنے ایک دوست فرید احمد کے ساتھ کراچی آرٹس تھیٹر سوسائٹی بھی قائم کی اور اس بینر تلے تھیٹر کے لیے کئی ڈرامے تخلیق کیے۔

ایک جاپانی کمپنی سے جب حکومت نے لاہور میں ٹی وی اسٹیشن قائم کرنے کا معاہدہ کیا تو اس کمپنی نے اسلم اظہر سے رابطہ کیا اور ان کی خدمات حاصل کیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس میڈیم کے حوالے سے کچھ نہیں‌ جانتے۔ مگر اس وقت کمپنی کی نظر میں کوئی اور قابل اور باصلاحیت شخص اس پروجیکٹ کے لیے نہیں تھا۔ان کے اصرار پر اسلم اظہر نے ہامی بھر لی۔ یوں ان کی سربراہی میں ٹی وی اسٹیشن کے قیام کے منصوبے پر کام شروع ہوا جسے بعد میں‌ حکومتِ پاکستان نے خرید لیا اور اسلم اظہر کو پروگرام ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ انھوں نے یہ ذمہ داری اس طرح نبھائی کہ باصلاحیت فن کاروں اور آرٹسٹوں سے کر تیکنیکی شعبے میں ماہرین اور قابل لوگوں کو اکٹھا کرلیا اور لاہور کے ساتھ ساتھ کوئٹہ اور کراچی میں بھی ٹی وی اسٹیشن قائم کیے۔ وہ اسٹیٹ فلم اتھارٹی کے سربراہ اور ریڈیو پاکستان کے بھی اہم عہدے پر فائز رہے۔

اسلم اظہر بذاتِ خود نہایت منجھے ہوئے براڈ کاسٹر تھے۔ صدا کاری کا فن ان کی آواز کے زیر و بم کے ساتھ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ ایک تخلیق کار اور اختراع ساز بھی تھے جن کے زمانے میں نت نئے آئیڈیاز اور مختلف تجربات کیے گئے اور وہ کام یاب ہوئے۔

1982-83 میں پی ٹی وی کی پہلی ایوارڈ تقریب اور متعدد شان دار اور طویل دورانیے کی نشریات کو اسلم اظہر کا تاریخی کارنامہ ہیں۔

اسلم اظہر 1977ء کے انتخابات سے قبل ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت میں پاکستان ٹیلی وژن تربیتی اکیڈمی کے سربراہ رہے۔ ضیاءُ الحق کے زمانے میں وہ ٹی وی سے منسلک نہیں رہے اور کراچی میں دستک تھیٹر گروپ کے تحت تخلیقی کام کرتے رہے۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں انھیں پاکستان ٹیلی وژن اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔

پی ٹی وی کو ہر لحاظ سے ایک قابلِ تقلید اور مثالی ادارہ بنانے والے اس جوہرِ قابل کی وفات 29 دسمبر 2015ء کو ہوئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں