بدھ, فروری 11, 2026
اشتہار

غضنفر صاحب کی دو تقریریں اور نواب کے دو ٹکٹ

اشتہار

حیرت انگیز

حبیب اللہ خان غضنفر امرہوی کو ہمہ جہت شخصیت کہا جانا چاہیے جو شاعر بھی تھے، محقّق اور نقّاد بھی، ماہرِ علمِ عروض اور ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ یہ غضنفر صاحب کے ایک شخصی خاکے سے وہ اقتباس ہے جس میں ان کی سادگی اور ریڈیو پر اپنے ایک تجربے پر مبنی واقعہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔

یہ شخصی خاکہ ڈاکٹر اسلم فرخی کا تحریر کردہ ہے اور اسے انھوں نے اپنی کتاب ‘آنگن میں ستارے’ میں شامل کیا ہے۔ حبیب اللہ خان غضنفر کا ناک نقشہ ڈاکٹر صاحب نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔

"پروفیسر حبیب اللہ خان غضنفر امرہوی۔ متوسط قد، قدرے بھاری جسم، مُرمُروں کا تھیلا تو نہیں تھا لیکن یہ محسوس ہوتا تھا کہ جوانی میں ورزش کرتے ہوں گے۔ پھر چھوڑ دی تو جسم بھاری ہو گیا۔ ایک عدد چھوٹی سی توند۔ بھاری جسم کی وجہ سے قد دبا معلوم ہوتا تھا مگر اتنا دبا بھی نہیں کہ ناٹوں میں شمار ہو۔ گول چہرا، چندیا پر محض چند بال، سفید مونچھیں، پھیلے ہونٹ، ستواں ناک، آنکھیں چھوٹی اور کسی قدر اندر کو دھنسی ہوئی، گندمی رنگ، مضبوط ہاتھ پیر، ڈھیلی ڈھالی شیروانی اور علی گڑھ کاٹ کے پیجامے میں ملبوس، کبھی کبھی پتلون بھی پہن لیتے تھے، مگر تکلفاً۔ بعد میں صرف شیروانی ہی پہنتے رہے۔ ساری زندگی اسی وضع میں گزار دی۔ منہ میں نقلی بتیسی تھی۔ دانت کب نکلوائے، کیوں نکلوائے ، کسی کو خبر نہیں تھی۔”

"وقت اور اصولوں کے پابند۔ کلاس میں کبھی دیر سے نہیں پہنچے۔ کبھی ناغہ نہیں کیا۔ جو کچھ پڑھاتے حد درجہ عالمانہ انداز سے پڑھاتے تھے۔ اس وجہ سے عام طلبہ ان سے مطمئن اور متاثر نہیں ہوتے تھے۔ وہ استاد الاساتذہ تھے۔ اُن سے بھرپور استفادے کے لیے طالبِ علم کا بلند ذہنی سطح پر فائز ہونا ضروری تھا۔”

ڈاکٹر اسلم فرخی نے اپنے اس خاکے میں ایک جگہ یہ واقعہ لکھا ہے۔ "یہ ریڈیو پاکستان کراچی کا ابتدائی دور تھا۔ اچھے مقرروں کی کمی تھی۔ گنتی کے چند لوگ تھے۔ ایک دن برادرم نصر اللہ خاں صاحب نے جو اردو تقریروں کے نگراں تھے مجھ سے کہا غضنفر صاحب کو بھی ریڈیو پر لاؤ۔ اردو مثنویوں پر تقریروں کا سلسلہ چل رہا ہے۔ مرزا شوق پر ان سے تقریر کروا دو۔ میں نے غضنفر صاحب سے تذکرہ کیا۔ بڑے خوش ہوئے، شاعر بھی اُن کے پسندیدہ دبستان کا۔ اُس زمانے میں تقریر کا دورانیہ پندرہ منٹ ہوتا تھا۔ تقریر کاہے کو پورا مضمون لکھنا پڑتا تھا۔ ریکارڈ نگ وغیرہ کا چکر نہیں تھا۔ پروگرام براہِ راست نشر ہوتا تھا۔ غضنفر صاحب نے کیا یہ کہ ایک کے بجائے دو تقریریں لکھ ڈالیں۔ مجھے دکھائیں تو میں نے کہا” یہ آپ نے کیا کیا۔ ایک تقریر کافی تھی، اللہ ری سادگی بولے: اسلم صاحب اگر ایک پسند نہ آئے تو دوسری نشر ہو جائے۔”

"اُن کی یہ بات سن کر مجھے بے اختیار لکھنؤ کے وہ نواب صاحب یاد آئے جنھیں میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ ہُوا یہ کہ میں اپنے نانا کے ساتھ بارہ بنکی جارہا تھا۔ آغا میر کی ڈیوڑھی کے اسٹیشن پر ایک نواب صاحب ملے جو نانا کے شناسا تھے۔ دونوں میں بڑی گرم جوشی سے دُعا سلام ہوئی۔ جب ہم ریل میں بیٹھ گئے تو نواب صاحب نے بتایا کہ انھوں نے اس سفر کے لیے دو ٹکٹ خریدے ہیں۔ مجھے ان کی یہ بات بڑی عجیب سی معلوم ہوئی اور میں نے بے سوچے سمجھے پوچھ لیا، نواب صاحب۔ دو ٹکٹ کیوں؟ انھوں نے بڑی معصومیت سے اپنی جیبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ” میاں صاحب زادے! ایک اس جیب میں رکھنے کے لیے اور دوسرا اس جیب کے لیے۔ خدا نخواستہ، خدا نخواستہ اگر ایک ٹکٹ کہیں گر جائے یا کھو جائے تو دوسرا موجود ہوگا۔ بے ٹکٹ پکڑے نہیں جائیں گے۔”

آگے چل کر اسلم فرخی رقم طراز ہیں، "میں نے غضنفر صاحب کو سمجھایا کہ ایسا نہیں ہوتا۔ ایک ہی مسودہ جائے گا۔ وہی کافی ہوگا۔ بڑی مشکل سے اس پر تیار ہوئے۔ مسودہ میں نے نصر اللہ خاں صاحب کو دے دیا۔ جیسے جیسے تاریخِ نشر نزدیک آتی گئی، غضنفر صاحب کا اضطراب بڑھتا گیا۔ آخر کار ایک دن یہ حکم ہوا کہ اسلم صاحب آپ میرے ساتھ چلیں گے۔ سعادت مندی کے تقاضے بعض اوقات بڑے مشکل ہو جاتے ہیں، مگر نباہنا پڑتا ہے۔ پاکستان چوک سے لارنس روڈ گیا۔ ریڈیو اسٹیشن ان دنوں اللہ میاں کے پچھواڑے کوئنز روڈ پر تھا۔ ٹیکسیوں کا زمانہ نہیں تھا، وکٹوریا تھی یا رکشا۔ رکشا والوں کے نخرے بھی بہت تھے۔ کوئنز روڈ جانے پر تیار ہی نہیں۔ خدا خدا کر کے ایک راضی ہوا تو غضنفر صاحب نے کہا، "میاں آنا اور جانا ہے، وہاں کچھ دیر انتظار بھی کرنا پڑے گا۔” وہ یہ سنتے ہی بدل گیا۔ صاف انکار کر دیا۔ آخر کار میں نے کہا۔ "چلے چلیے، واپسی کا اللہ مالک ہے۔” رکشا میں بیٹھ کر چلے۔ ادھر بچّوں نے محلے میں کہہ دیا "میاں ریڈیو پر گانے جا رہے ہیں۔” (غضنفر صاحب کے بچّے انھیں میاں کہتے تھے) اس گانے کی دھوم ہوگئی۔ ریڈیو اسٹیشن پہنچے۔ نصر اللہ خاں صاحب نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ دو خاں صاحبوں کی ملاقات تھی۔ غضنفر صاحب اسٹوڈیو میں بٹھائے گئے۔ تقریر نشر ہوگئی۔ باہر نکلے تو گلا خشک اور پیشانی پر پسینے کے قطرے۔ واپسی میں رکشا آسانی سے مل گیا۔ بیٹھے تو بڑے مستحکم لہجے میں کہا۔ اس شیطانی چرخے سے اللہ بچائے، عزت رہ گئی، اب میں کبھی کوئی تقریر نہیں کروں گا اور وہ اپنے اس فیصلے پر قائم رہے۔ میں نے بارہا انھیں کسی نہ کسی تقریر کے لیے آمادہ کرنا چاہا مگر انھوں نے صاف انکار کر دیا۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں