عاصمہ رانی کے والد مایوس، بیٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے جرگے کو فیصلے کا اختیار دیدیا
The news is by your side.

Advertisement

عاصمہ رانی کے والد مایوس، بیٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے جرگے کو فیصلے کا اختیار دیدیا

کوہاٹ : قتل کی گئی عاصمہ رانی کے والد خیبر پختونخوا پولیس سے مایوس ہوگئے، بیٹی کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے لکی مروت میں قائم ہو نیوالے جرگے کو فیصلے کے تمام اختیارات دیدیئے۔

تفصیلات کے مطابق عاصمہ رانی قتل کیس میں خیبر پختونخوا پولیس نے مرکزی ملزم کے بھائی اور اس کےقریبی ساتھی کو تو گرفتار کر لیا مگر مرکزی ملزم تاحال قانون کی پہنچ سے دور ہے ۔

پولیس کی ناکامی کے بعد لکی مروت کے عمائدین نےحصول انصاف کیلئے جرگہ تشکیل دیدیا، جرگہ پینتس رکنی کمیٹی پر مشتمل ہے ۔

ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور مختلف سیاسی رہنماؤں پر مشتمل کمیٹی نے آئی جی خیبر پختونخوا سے ملاقات اور پریس کلب کے باہر احتجاج کا فیصلہ کیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ملزم کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرے۔

عاصمہ رانی کے والد نے انصاف کے حصول کیلئے تمام فیصلوں کا اختیار جرگے کو دیدیئے۔


مزید پڑھیں : عاصمہ رانی قتل کیس: مرکزی ملزم کا قریبی دوست گرفتار


یاد رہے کہ عاصمہ رانی قتل کیس میں مرکزی ملزم مجاہدآفریدی کے دوست شاہ زیب کو گرفتارکرلیا گیا، ملزم شاہ زیب مقتولہ کی ریکی کرتا تھا جبکہ کوہاٹ کی عدالت نے گرفتار ملزم صادق اللہ کو مزید چار روزہ جسمانی ریمانڈپر پولیس کےحوالے کردیا۔

ولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد مجاہد آفریدی کو فرار کرانے میں بھی شاہ زیب نے مدد فراہم کی جبکہ کے پی کے پولیس ملزم مجاہد اللہ آفریدی کی گرفتاری کیلئے سعودی حکومت اورانٹر پول سے رابطے میں ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ 29 جنوری کو مجاہد آفریدی نے رشتے سے انکار پرمیڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا جس کے بعد ملزم سعودی عرب فرار ہوگیا تھا۔


شادی سے انکار پر میڈیکل کی طالبہ کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا


بعدازاں 30 جنوری کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخواہ صلاح الدین محسود سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں