The news is by your side.

Advertisement

میڈیکل کی طالبہ کے قاتل کا عبرتناک انجام ، عدالت نے سزائے موت سنا دی

پشاور :کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی قتل کیس میں مرکزی مجرم مجاہداللہ آفریدی کو سزائےموت سنا دی گئی ، عاصمہ رانی کو شادی سے انکار پر 2018 میں گھر کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے سینٹرل جیل پشاور میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی قتل کیس کی خصوصی سماعت کی ، دوران سماعت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی مجرم مجاہداللہ آفریدی کوسزائےموت سنا دی جبکہ 2 ملزمان صدیق اللہ اورشاہ زیب کوبری کردیا۔

ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج پشاوراشفاق تاج نےمختصرفیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ جنوری 2018 میں کوہاٹ میں مجاہد آفریدی نے رشتے سے انکار پر میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کر کے گھر کے سامنے قتل کردیا تھا، جس کے فوری بعد ملزم سعودی عرب فرار ہو گیا تھا۔

عاصمہ رانی نےزخمی حالت میں ویڈیوبیان میں ملزم مجاہداللہ آفریدی کانام لیا ، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے قتل کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخواہ صلاح الدین محسود سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کی تھی۔

بعد ازاں ملزم مجاہد آفریدی کو انٹرپول کے ذریعے شارجہ سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ مرکزی ملزم مجاہدآفریدی کے دوست شاہ زیب کو گرفتار کرلیا تھا، ملزم شاہ زیب مقتولہ کی ریکی کرتا تھا اور قتل کے بعد مجاہد آفریدی کو فرار کرانے میں بھی شاہ زیب نے مدد فراہم کی۔

خیال رہے دسمبر 2019 میں سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو عاصمہ رانی قتل کیس کا فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے خلاف اپیل پر تین رکنی بینچ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں