The news is by your side.

Advertisement

مسلم مخالف قانون کے خلاف آسام میں احتجاج، 6 افرا دہلاک

نئی دہلی: مسلم مخالف بھارتی قانون کے خلاف ریاست آسام میں شدید احتجاج جاری ہے، پرتشدد مظاہروں میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پڑوسی ملک بھارت میں شہریت کے متنازع بل کے خلاف مختلف شہروں میں عوام سراپا احتجاج بن گئے ہیں، پر تشدد مظاہروں میں آسام میں چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

آسام کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، اسکول، کالجز اور بازار بند ہیں، سرکاری ملازمین نے بھی احتجاجاً کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، انٹرنیٹ پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔

مغربی بنگال میں مظاہرین نے 5 ٹرینوں، 3 ریلوے اسٹیشنز اور 25 سے زائد بسوں کو آگ لگا دی۔ ادھر کیرالہ، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، پنجاب اور چھتیس گڑھ نے متنازع بل نافذ کرنے سے انکار کر دیا۔ متنازع بل پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ نے بھارت کے لیے سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی صدر نے متنازعہ شہریت کے بل پر دستخط کر دیے

یاد رہے کہ گزشتہ روز ملک میں جاری احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے متنازعہ شہریت‌ کے بل پر دستخط کر دیے تھے جس کے بعد بھارت بھر میں احتجاجی مظاہروں نے شدت پکڑ لی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہلاکتیں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران ہوئیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم اور فسادات کی وجہ سے جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے نے گزشتہ روز دورۂ بھارت منسوخ کر دیا ہے، دو دن قبل بنگلا دیش کے وزیر خارجہ نے بھی بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا تھا، یو این انسانی حقوق کے ادارے نے بھی بھارتی شہریت کے نئے قانون پر اظہار تشویش کرتے ہوئے نئے قانون کو امتیازی قرار دے دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں