The news is by your side.

Advertisement

نگراں وفاقی وزرا کے اثاثوں کی تفصیلات جاری

اسلام آباد: نگراں وفاقی وزرا کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کردی گئیں جن کے مطابق نگراں وزیر اطلاعات علی ظفر کے اثاثوں کی مالیت 28 کروڑ جبکہ نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے اثاثوں کی مالیت 4 کروڑ روپے ہے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق نگراں وزیر اطلاعات علی ظفر 28 کروڑ 38 لاکھ 6 ہزار 22 روپے کی مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں۔

علی ظفر پراپرٹی مورگیج کے طور پر 3 کروڑ 10 لاکھ 26 ہزار 250 روپے کے مقروض بھی ہیں۔

ان کے پاس 1 کروڑ 95 لاکھ، 49 ہزار 499 روپے مالیت کیگاڑیاں موجود ہیں جبکہ ان کا بینک بیلنس 11 کروڑ 15 لاکھ 34 ہزار 679 روپے ہے۔

دستاویزات کے مطابق علی ظفر کے دبئی میں 3 اپارٹمنٹ، لندن اور برمنگھم میں گھر ہیں۔ ان کی اہلیہ 1 کروڑ 59 لاکھ 60 ہزار سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں۔

علی ظفر کی اہلیہ کے پاس 150 تولے سونا بھی موجود ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے اثاثوں کی مالیت 4 کروڑ 4 لاکھ 4 ہزار 746 روپے ہے۔ شمشاد اختر کے نام اسلام آباد میں 3 جبکہ کراچی میں ایک گھر ہے۔

شمشاد اختر کی جائیداد کی مالیت 28 لاکھ سے زائد ظاہر کی گئی ہے۔ ان کے پاس 2 کروڑ 77 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹس ہیں جبکہ انہوں نے پی ایس او اور نجی بینک میں 22 لاکھ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

شمشاد اختر کے پاس بینک اکاؤنٹس میں 72 لاکھ روپے اور 2 لاکھ روپے مالیت کا سونا بھی ہے۔

وزیر داخلہ اعظم خان 1 کروڑ 45 لاکھ 29 ہزار روپے سے زائد کے مالک ہیں۔ ان کے پشاور میں ایگ گھر اور 2 پلاٹ کی مالیت 65 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ وہ 3 شوگر ملز میں حصہ دار بھی ہیں۔

اعظم خان کی اہلیہ کے نام 1 کنال رہائشی پلاٹ کی مالیت 30 لاکھ ہے جبکہ ان کی ملکیت میں ساڑھے 6 لاکھ روپے مالیت کا سونا بھی شامل ہے۔ دونوں کے بینک اکاؤنٹس میں موجود رقم 43 لاکھ روپے ہے۔

وزیر ریلوے روشن خورشید نے اثاثوں کی کل مالیت درج نہیں کی۔ روشن خورشید کی ملکیت میں کراچی اور بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں گھر جبکہ سینیٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، بحریہ ٹاؤن کراچی اور کوئٹہ میں پلاٹ موجود ہے۔

روشن خورشید نے کوئٹہ میں 62 ہزار اسکوائر فٹ کی زمین بھی اثاثوں میں ظاہر کی ہے۔

نگراں وزیر خارجہ عبد اللہ حسین ہارون نے اثاثوں کی کل مالیت فراہم نہیں کی۔ انہوں نے کراچی میں رہائشی گھر کو خاندانی وراثت میں ظاہر کیا جبکہ اپنے اثاثہ جات میں عبد اللہ ہارون ورکس اینڈ ٹرسٹ کو ظاہر کیا ہے۔

عبداللہ حسین نے کراچی میں 25 ایکڑ زمین بھی اپنی ملکیت میں ظاہر کی ہے۔ ان کی ملکیت میں 17 لاکھ کی سرمایہ کاری، 50 تولے سونا، 90 لاکھ کی لینڈ کروزر اور 28 لاکھ کی مرسڈیز بھی موجود ہے۔

عبداللہ حسین ہارون کا بینک بیلنس 48 لاکھ روپے سے زائد ہے۔

نگراں وزیر تعلیم یوسف شیخ کے اثاثوں کی مالیت 2 کروڑ 34 لاکھ 69 ہزار 701روپے ہے۔ ان کا بینک بیلنس 51 لاکھ 37 ہزار 801 روپے ہے جبکہ ان کا کراچی میں ایک گھر اور دادو میں 4 پلاٹ ظاہر کیے گئے ہیں۔

یوسف شیخ نے لاڑکانہ اور ٹھٹھہ میں زرعی زمین بھی اثاثوں میں ظاہر کی ہے۔


صوبائی وزرا کو کام سے روکنے پر غور

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کروانے والے صوبائی نگراں وزرا کی تفصیلات بھی جاری کردیں۔

پنجاب سے7، سندھ سے 3، پختونخواہ سے 5 اور بلوچستان سے 2 وزرا نے تاحال اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں۔

پنجاب کے وزرا میں ظفر محمود، جواد ساجد خان، شجاعت جاوید، انجم نثار، سردار تنویر الیاس، میاں نعمان کبیر اور چوہدری فیصل مشتاق شامل ہیں۔

سندھ کے وزرا میں جنید شاہ، سعدیہ ورک اور سیمن جون ڈینیئل اور بلوچستان سے عنایت اللہ کاسی اور خرم شہزاد کے نام شامل ہیں۔

پختونخواہ کے وزرا میں عبد الرؤف خان، ثنا اللہ، مقدس اللہ، محمد راشد خان اور جسٹس ریٹائرڈ اسد اللہ خان نے اثاثوں کی تفصیلات نہیں جمع کروائیں۔

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ کے مطابق نگراں وزرا عہدہ سنبھالنے کے 3 دن کے اندر اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کروانے کے پابند ہیں۔

الیکشن کمیشن نے اثاثہ جات کی تفصیلات نہ جمع کروانے والے وزرا کو کام سے روکنے پر غور شروع کردیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں