The news is by your side.

Advertisement

ایسٹ ریکوری یونٹ کو3ججوں کےبیرون ملک اثاثوں سے متعلق معلومات ملیں، وزارت قانون

اسلام آباد : وزارت قانون وانصاف نے کہا ایسٹ ریکوری یونٹ کو3ججوں کےاثاثوں سےمتعلق معلومات ملیں، ججوں کےاثاثےلندن نوٹری میں درج تھے، ہائی کمیشن نےتصدیق کی۔

تفصیلات کے مطابق وزارت قانون وانصاف اورایسٹ ریکوری یونٹ نے ججز کے خلاف ریفرنس کے معاملے پر مشترکہ بیان جاری کردیا، جس میں کہا گیا پاکستانیوں کےغیرملکی اثاثوں کی نشاندہی کیلئےموثرمیکنزم کی ضرورت تھی ، بیرونی دولت واپس لانے کیلئے ایسٹ ریکوری یونٹ قائم کیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ایسٹ ریکوری یونٹ نےپاکستانیوں کےبیرون ملک اثاثوں کی نشاندہی کی اثاثوں کی نشاندہی کےبعدمعلومات متعلقہ محکموں تک بھیج دی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق ایسٹ ریکوری یونٹ کو3ججوں کےاثاثوں سےمتعلق معلومات ملیں، ججوں کےاثاثوں سےمتعلق شکایت وزارت قانون وانصاف کوبھیج دی گئی، وزارت قانون نےاعلیٰ عدلیہ کے3ججوں کےاثاثوں کی چھان بین کاکہا، اور ہدایت تھی ججوں کے اثاثوں کی مکمل تصدیق کی جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا یونٹ نےججوں کےاثاثوں کی لینڈرجسٹریزکی مصدقہ کاپیاں حاصل کیں، ججوں کےاثاثےلندن نوٹری میں درج تھے،ہائی کمیشن نےتصدیق کی، یہ واضح رہےکہ کارروائی صرف تصدیق شدہ اطلاع پرہوسکتی ہے۔

مزید پڑھیں :  جسٹس فائز عیسیٰ ودیگر کیخلاف ریفرنس پر سماعت 14جون کو ہوگی

اعلامیے کے مطابق ریفرنسزاٹارنی جنرل،وزیراعظم،صدرکوآگاہ رکھ کربھیجےگئے، اثاثوں کے دو ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجے گئے، ریفرنس نہ بھیجنےپرحکومت پرشرمناک غفلت کاالزام لگتا، اٹارنی جنرل،ایسٹ ریکوری یونٹ کااقدام قانونی طوپردرست ہے، وزیراعظم، صدر نے قانون کی بالادستی کا عملی مظاہرہ کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ہائیکورٹ کے 2 ججز کے خلاف حکومت نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے تھے۔

اثاثے چھپانے کے الزام پر دائر ریفرنس میں ججز کے خلاف آرٹیکل دو سو نو کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

صدارتی ریفرنسز پر سماعت کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 14 جون کو طلب کرلیا گیا ہے اور اٹارنی جنرل کو نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں