دمہ وہ بیماری ہے جس میں مریض کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور اس کا سینہ متاثر رہتا ہے، دنیا بھر میں 30 کروڑ سے زائد افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔
دنیا بھر میں آج دمہ سے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور مؤثر علاج تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں پروفیسر آف پلمونولوجی ڈاکٹر فیصل اسد نے اس مرض سے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور ناظرین کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ دمہ (استھما) سانس کی نالیوں کی سوزش کا دائمی مرض ہے، جس کا مکمل علاج تو ممکن نہیں مگر انہیلر کے باقاعدہ استعمال اور پرہیز سے اسے مکمل کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
دنیا بھر میں آج 5 مئی دمہ سے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد اس بیماری کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور مؤثر علاج تک رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
ہر سال مئی کے پہلے منگل کو دمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق دمہ ایک عام مگر قابلِ کنٹرول بیماری ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص اور درست علاج اختیار کیا جائے۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر امراضِ سینہ ڈاکٹر فیصل اسد نے بتایا کہ دمہ دراصل سانس کی نالیوں میں سوزش کا نام ہے، جو ماحولیاتی عوامل یا جسمانی حساسیت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔
اس بیماری میں سانس کی نالیاں تنگ ہوجاتی ہیں جس کے باعث مریض کو سانس لینے میں دشواری، کھانسی، سینے میں جکڑن اور سانس کے ساتھ سیٹی جیسی آواز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بیماری کی وجوہات اور علامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل اسد نے بتایا کہ دمہ کی بڑی وجوہات میں فضائی آلودگی اور اسموگ، گرد و غبار (ڈسٹ)، پولن (پھولوں کا زردانہ)، سگریٹ نوشی اور ویپنگ، کیمیکل اور خوشبو دار اسپرے اور اچانک موسم کی تبدیلی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بیماری اکثر بچپن میں شروع ہوتی ہے اور زندگی بھر ساتھ رہ سکتی ہے، تاہم مناسب احتیاط اور علاج سے مریض نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔
انہیلر محفوظ اور مؤثر علاج
ڈاکٹر فیصل اسد نے واضح کیا کہ جدید دور میں انہیلر دمہ کے علاج کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیلر کے ذریعے دوا براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچتی ہے، اس کے سائیڈ ایفیکٹس نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں یہ نشہ آور نہیں ہوتا۔
انہوں نے اس غلط فہمی کو بھی دور کیا کہ انہیلر کے استعمال سے عادت پڑجاتی ہے اور کہا کہ یہ مکمل طور پر محفوظ طریقہ علاج ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


